نئی دہلی:آل انڈیامسلم ایکتا کمیٹی کے چیئر مین حاجی اکرام حسن نے کہا کہ بابا کا کام نفرت پھیلانا نہیں بلکہ نفرت کو محبت میں بدلنا ہے اس لئے رام دیو جو زبان استعمال کررہے ہیں وہ نہ تو کسی کاروباری کی ہوسکتی ہے اور نہ ہی با با کی اس لئے رام دیو کے ساتھ با با کا استعمال کرنا حقیقی باباؤں کی توہین ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو بھی انہوں نے مسلمانوں کے تعلق سے بات کہی ہے وہ بہت ہی تشویش ناک ہے جس کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتااور اگر رام دیو اپنے مذہب ہی کا مطالعہ کریں تو انہیں اپنے دئے ہوئے بیان پر ہی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسا لگتا ہے کہ رام دیو اپنے مذہب کی تعلیم سے بھی آشنا نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ نفرت انگیز بیان دینے والوں میں شامل ہوتے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد بابا کو ماں ،بہن اور بیٹی کے مراتب ہی نہیں پتہ اسی لئے وہ کہہ رہے ہیں کہ’ مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور ہندؤں کی لڑکیوں کو اٹھا لے جاتے ہیں‘ جبکہ تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ اس کے ماننے والوں نے ہمیشہ عورت کا تحفظ کرکے اس کے وقار کو بلند کیا ہے چاہے عورت کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاگل پن کی خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کاروبار کو لے کر بہت پریشان ہیں ۔ان کے پاس جو بھی دوایاں ہیں وہ کسی بھی لائق نہیں ہیں جبکہ مسلمانوں میں ایک سے ایک حکیم ہیں ۔ہمدرد ،شمع اور صدر جیسی کمپنیوں کے ایک بھی پروڈکٹ کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہیں اس لئے انہوں نے یہ نفرتی قدم اٹھایاہے حالانکہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے کیوں کہ ہندو بھی ا ن کی حرکتوں کو خوب سمجھ چکے ہیں












