نئی دہلی،پریس ریلیز،ہماراسماج:خادم اغواہ مقدمہ میں کولکاتہ ہائی کورٹ کی جانب سے عمر قید کی سزا پانے والے مزمل شیخ نامی شخص کی ضمانت عرضداشت پرآج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بینچ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کماراور جسٹس پرسنا بی ورالے نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی بحث کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا، ملزم کی ضمانت پر رہائی کی مغربی بنگال حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے سخت مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کو اگر ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ بنگلہ دیش فرار ہوجائے گاکیونکہ بنگلہ دیش میں اس کے رشتہ دار رہتے ہیں۔اسی درمیان سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ کرونا وباء کے دوران ملزم کو چار ماہ اور پھر ایک سال کے لیئے پیرول پر رہا کیا گیا تھا، پیرول پر رہائی کے بعد ملزم وقت مقررہ پر جیل میں واپس آگیا تھا لہذا استغاثہ کا یہ کہنا کہ ضمانت ملنے کے بعد ملزم فرارہوجائے گا جھوٹ کا پلندہ ہے۔سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزم کے دفاع میں کامیاب بحث کی۔اس سے قبل کی سماعت پر دو رکنی بینچ نے مغربی بنگال حکومت اور جیل انتظامیہ کو سختی سے حکم دیا تھاکہ وہ مزمل شیخ کی سزا معافی کی درخواست پر چھ ہفتوں کے اندر فیصلہ صادر کرے۔ آج دوان سماعت مغربی بنگال حکومت کی جانب سے عدالت کو مطلع کیا گیا کہ ملزم کی سزا میں تخفیف کی درخواست کو حکومت نے مسترد کردیا ہے۔ مغربی بنگال حکومت کے فیصلے کے بعد عدالت نے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کی۔ دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک طویل عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے نیز جیل میں ملزم کا رویہ قابل اطمنان ہے لہذا ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور کی جائے۔گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس مقدمہ میں ملزم کو مفرور قرار دیا گیا تھا لیکن پھر ملزم کی گرفتاری بتاکر اس کے خلاف ٹرائل چلایا گیا جبکہ پہلے اس مقدمہ میں نچلی عدالت دوسرے ملزمین کو سزائیں سنا چکی تھی۔سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے دیگر ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔جمعیۃ علما ء قانونی امداد کمیٹی سینئر وکیل کے صلاح و مشورہ سے دیگر ملزمین کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کریگی۔واضح رہے کہ عرض گذار مزمل شیخ کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کرر ہی ہے۔ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چان قریشی نے ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور ایڈوکیٹ عارف علی کے تعاون سے کولکاتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ ملزم مزمل شیخ پر الزام ہے کہ اس نے 23/جولائی 2001ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں ملوث ملزمین کی مدد کی تھی۔ واضح رہے کہ اس مقدمہ میں پولس نے پہلے 22/ لوگوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں سے 17/ ملزمین باعزت بری ہوئے تھے اور بقیہ پانچ ملزمین کو 21/ مئی 2009ء عمر قید کی سزا ہوئی تھی لیکن مقدمہ ختم ہوجانے کے بعد پولس نے سال 2011/ میں آٹھ دیگر ملزمین کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیزات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جن کے خلاف 65/ سرکاری گواہوں نے گواہی دی جس کے بعد علی پور جیل میں قائم خصوصی عدالت نے انہیں بھی عمر قید کی سزا سنا دی تھی جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ ٹرائل کور ٹ نے 8/ دسمبر 2017/ کو دوسرے مرحلے کی ٹرائل میں آٹھ ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ملزمین نے کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جس پر تقریباً چھ سال تک سماعت چلی جس کے بعد گذشتہ سال ہائی کورٹ نے فیصلہ صادر کیا تھا اور ملزمین کی عمر قید کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔












