بلوچستان۔ ایم این این۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے حملے پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اربوں ڈالر کے معدنیاتی معاہدوں کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر میں اوول آفس میں کھڑے پاکستان کے آرمی چیف نے صدر ٹرمپ کو معدنیات اور قیمتی پتھروں سے بھرا ایک لکڑی کا ڈبہ پیش کیا یہ اس جانب اشارہ تھا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں منافع بخش معاہدے کرسکتی ہیں، جہاں کان کنی کے شعبے پر طویل عرصے سے چین کا غلبہ رہا ہے۔اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں کہا تھا کے وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔چند ماہ بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان میں 1.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جو سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کا حامل علاقہ ہے۔نیوز یارک ٹائمز کے مطابق انسداد دہشتگردی اور کرپٹو شراکت داری کے بعد پاکستانی حکام نے معدنیات کے شعبے میں تعاون کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی جانب مائل کرنے میں کامیابی حاصل کی، حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔امریکی جریدے نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں امریکی شرط “جنوبی ایشیا کی ایک مہلک ترین مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی بی ایل اے” سے براہ راست ٹکراؤ کی جانب بڑھ رہی ہے یہ تنظیم مغربی پاکستان، مشرقی ایران اور جنوبی افغانستان پر مشتمل خطے میں جاری علیحدگی پسند شورش کی علمبردار سمجھی جاتی ہے۔آزاد بلوچستان کی جدوجہد پاکستان جتنی پرانی ہے اور کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند حملوں کا سبب بنتی رہی ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں میں بی ایل اے نے سینکڑوں مہلک حملے کیے ہیں جن کا نقطۂ عروج 31 جنوری کو دیکھنے میں آیا، جب 500 سے زائد بی ایل اے جنگجوؤں نے مربوط کارروائی کرتے ہوئے وسیع ترین بلوچستان کے 12 مختلف علاقوں میں کم از کم 18 اہداف کو نشانہ بنایا اور کم از کم 58 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستانی حکام نے ان حملوں کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی، لیکن نیویارک ٹائمز کی تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں بی ایل اے کا سب سے وسیع حملہ تھا، جس میں صرف فوجی اور پولیس اہداف ہی نہیں بلکہ متعدد شہری اہداف بھی شامل تھے، جو پاکستانی ریاست کیلئے گروپ کے بڑھتے ہوئے چیلنج کو ظاہر کرتا ہے۔












