
اردو ادب کی تاریخ میں یہ پہلا سیاہ باب لکھا جا رہا ہے کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی جیسے ادارے نے ایک فلم کی سالگرہ کو اتنے تاک و احتشام سے منایا کہ گویا اردو کے بقا و فروغ کا یہی سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ لیکن یہ محض ایک فلم کی سالگرہ نہ تھی، بلکہ اردو کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا ایک نیا موقع فراہم کیا گیا۔ اور یہ اعزاز کسی اور کے حصے میں نہیں بلکہ جاوید اختر جیسے شاعر اور فلمی اسکرپٹ رائٹر کے حصے میں آیا، جنہوں نے اپنی تقریر میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ثابت کر دیا کہ اردو کے نام پر دراصل مذہب بیزاری اور مسلمانوں کی تذلیل کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے وجود کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ ادارہ اردو زبان و ادب کے تحفظ اور فروغ کے لئے بنایا گیا تھا یا پھر یہ ایک سرکاری “ڈیکوریشن پیس” ہے جس کا اصل کام سیاسی حکمرانوں کو خوش رکھنا اور ان کے اشاروں پر ناچنا ہے؟ جو ادارہ اردو شاعری، تحقیق، تنقید اور نوجوان نسل میں زبان کی ترویج کے لئے کوئی خاطر خواہ کام نہ کرے، مگر فلمی تقریبات میں جھوم جھوم کر "سالگرہ” منائے اور ایسے متنازع افراد کو مدعو کرے جو اردو بولنے والےمسلمانوں کی ہی توہین کریں، اس ادارے کے وجود پر سوالیہ نشان لگانا ہی پڑے گا۔
اردو اکیڈمی کے اس شرمناک قدم نے صاف کر دیا کہ یہ ادارہ اب "اردو کا محافظ” نہیں بلکہ "حکومت کا پروپیگنڈہ ایجنسی ” بن چکا ہے۔ اور یہ سب کچھ کسی فردِ واحد کی مرضی سے نہیں بلکہ ریاستی حکومت اور اس کی سربراہ ممتا بنرجی کی چھتری تلے ہورہا ہے۔
ممتا بنرجی نے بارہا خود کو مسلمانوں کی “محافظ” اور “دوست” ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جب انہی کے زیرِ سایہ ایک ادارہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو کچلتا ہے اور اسلام کے خلاف زبان درازی کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، تو ان کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے بجائے براہِ راست شراکت داری کہلائے گی۔ خاموشی کبھی کبھی سب سے بڑی گواہی ہوتی ہے۔ اور ممتا بنرجی کی یہ خاموشی اس بات کی تصدیق ہے کہ اردو اکیڈمی کا یہ قدم ان کی مرضی اور آشیر واد کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔
یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ممتا بنرجی نے اردو زبان اور مسلمانوں کے اعتماد دونوں کے ساتھ سیاسی سودا کر لیا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ اردو کے نام پر مسلمانوں کو بہلانا آسان ہے، لیکن وہ بھول گئی ہیں کہ اس بار مسلمانوں کے زخم اتنے گہرے ہیں کہ یہ محض بہلانے کا کھیل نہیں۔
جاوید اختر ایک بڑے شاعر مانے جاتے ہیں، لیکن ان کی زبان اکثر زہر اگلتی ہے۔ وہ اسلام پر وار کریں، مسلمانوں کی تذلیل کریں اور پھر بھی اردو کے پلیٹ فارم پر مسندِ اعزاز پر بٹھائے جائیں؟ یہ اردو کے ساتھ سب سے بڑی بے ادبی ہے۔ اردو کی تاریخ ولی دکنی، میر، غالب، اقبال اور فراق کے خونِ جگر سے بنی ہے۔ وہ اردو جس نے محبت، رواداری اور سچائی کے چراغ جلائے، آج اسے ان ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے جو اردو کا نام لے کر اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ کیا یہ اردو کا قتل نہیں؟
بنگال کے عام مسلمانوں میں اس وقت شدید غصہ ہے۔ ان کے نزدیک یہ صرف ایک تقریر نہیں بلکہ ان کی مذہبی شناخت اور جذبات پر کھلا وار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو اکیڈمی کو صرف چند نعرے بازی یا اخباری بیانات سے ہوش آئے گا؟ یا پھر مسلمانوں کو ایک منظم تحریک کے ذریعے یہ باور کرانا پڑے گا کہ اردو کے نام پر اسلام دشمنی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
اردو اکیڈمی اور ممتا حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ معاملہ محض “ادبی تنازع” نہیں بلکہ “مذہبی اور تہذیبی اعلانِ جنگ” ہے۔ اگر آج مسلمان خاموش رہے تو کل یہ سلسلہ اور آگے بڑھے گا اور اردو کے پلیٹ فارم پر وہی آوازیں گونجیں گی جو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی کا یہ عمل اردو کے خلاف بدترین خیانت اور مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی ہے۔ اس کی ذمہ داری براہِ راست ممتا بنرجی اور ان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان محض تماشائی بن کر نہ بیٹھیں بلکہ اردو کو اردو دشمنی کے شکنجے سے آزاد کرائیں۔ کیونکہ اگر اردو مسلمانوں کے جذبات کو کچلنے کا اوزار بن جائے، تو یہ صرف اردو کا نہیں بلکہ ہماری پوری تہذیبی شناخت کا جنازہ ہوگا۔











