جمہوریت میں انتخابی نتائج صرف حکومتیں تبدیل نہیں کرتے بلکہ معاشروں کے مزاج، قوموں کے اعتماد اور طبقوں کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ریاست میں سیاسی تبدیلی آتی ہے تو اس کی بازگشت صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گلیوں، بازاروں، مسجدوں، تعلیمی اداروں اور گھروں تک سنائی دیتی ہے۔ بنگال میں بی جے پی کی حالیہ کامیابی کے بعد بھی ایک ایسا ہی ماحول پیدا ہوا ہے۔ ایک طبقہ جشن اور فتح کے احساس میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بے چینی، خوف اور مایوسی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ بعض سیاسی رہنما اقتدار میں آتے ہی کھلے لفظوں میں یہ کہنے لگے ہیں کہ وہ صرف انہی لوگوں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ ایسے بیانات یقیناً ایک جمہوری ذہن رکھنے والے انسان کے لیے باعثِ تشویش ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حالات میں مایوسی اختیار کرنا دانشمندی ہے؟ کیا خوف اور بے بسی کا ماحول ہی مستقبل کا راستہ متعین کرے گا؟ یا پھر وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور شعور سے کام لیا جائے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی نتائج کو اکثر تقدیر کا آخری فیصلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی جماعت کامیاب ہو جائے تو کچھ لوگ اسے اپنی مکمل فتح تصور کرتے ہیں، اور اگر شکست ہو جائے تو کچھ لوگ ایسے ٹوٹ جاتے ہیں جیسے اب ان کے لیے جینے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا ہو۔ حالانکہ جمہوریت میں اقتدار کا آنا جانا ایک مستقل حقیقت ہے۔ آج ایک جماعت اقتدار میں ہے، کل دوسری ہو سکتی ہے۔ مگر قومیں صرف حکومتوں سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ اپنے علم، کردار، اتحاد، معیشت اور حکمت سے زندہ رہتی ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ صرف سیاسی نعروں سے کسی قوم کی حفاظت نہیں ہوتی۔ جو قومیں صرف جذبات میں جیتی ہیں، وہ وقتی شور تو پیدا کر لیتی ہیں مگر تاریخ میں مضبوط مقام حاصل نہیں کر پاتیں۔ مضبوط قومیں وہ ہوتی ہیں جو ہر بحران میں خود احتسابی کرتی ہیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانتی ہیں اور خاموشی سے اپنی بنیادیں مضبوط کرتی ہیں۔
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ہم ہر انتخاب کے بعد اتنے بے چین کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی زندگی کو صرف سیاست تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ اگر اقتدار ہمارے پسندیدہ لوگوں کے پاس ہو تو سب کچھ محفوظ ہے، اور اگر اقتدار مخالفین کے پاس چلا جائے تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ یہی سوچ ہمیں بار بار ذہنی شکست کی طرف لے جاتی ہے۔سچ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت صرف اقتدار نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی بہت سی عظیم قومیں تاریخ سے مٹ چکی ہوتیں۔ قوموں کی اصل طاقت تعلیم، معیشت، اخلاق، اتحاد، سماجی اثر و رسوخ اور فکری پختگی میں ہوتی ہے۔ اگر ایک قوم ان میدانوں میں مضبوط ہو جائے تو سیاسی اتار چڑھاؤ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ہماری ایک بڑی کمزوری غفلت ہے۔ ہم نتائج آنے کے بعد دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں، افسوس کرتے ہیں، تجزیے کرتے ہیں، مگر نتائج آنے سے پہلے نہ ہماری دعاؤں میں وہ تڑپ ہوتی ہے، نہ ہماری منصوبہ بندی میں وہ سنجیدگی۔ ہم اکثر جذباتی نعروں اور وقتی جوش میں تو آگے ہوتے ہیں، مگر مستقل مزاجی کے ساتھ علمی، سماجی اور سیاسی تیاری نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالات بدلتے ہیں تو ہم حیران رہ جاتے ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو زیادہ تر جذبات دیے، حکمت نہیں دی۔ خوف دیا، اعتماد نہیں دیا۔ احتجاج کا جذبہ دیا، تیاری کا شعور نہیں دیا۔ حالانکہ آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ نوجوان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں، سول سروسز میں جائیں، قانون، میڈیا، تجارت، ٹیکنالوجی اور سماجی قیادت میں اپنی جگہ بنائیں۔ صرف جلسے جلوس کسی قوم کو محفوظ نہیں بناتے، بلکہ اداروں میں مضبوط موجودگی قوموں کو طاقت دیتی ہے۔اسی طرح مذہبی اور سماجی قیادت کو بھی اپنے انداز پر غور کرنا ہوگا۔ قوموں کو ہر وقت خوفزدہ رکھنا اصلاح نہیں کہلاتا۔ اگر ہر شکست کے بعد صرف یہ بتایا جائے کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا، تو یہ قوم کے حوصلے توڑنے کے مترادف ہے۔ اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو اندھیروں میں امید پیدا کرے، بے چینی میں توازن سکھائے، اور جذبات میں حکمت پیدا کرے۔
بنگال کے موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت اسی حکمت کی ہے۔ اگر کچھ سیاسی رہنما اقتدار کے نشے میں ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے تقسیم کا احساس پیدا ہو رہا ہے، تو اس کا جواب اشتعال نہیں بلکہ صبر، کردار اور آئینی شعور سے دیا جانا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اشتعال وقتی سکون تو دے سکتا ہے، مگر مستقل نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ جبکہ حکمت خاموش ہوتی ہے، مگر اس کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہی قومیں باقی رہیں جنہوں نے صبر اور تدبر کا راستہ اختیار کیا۔ نبی کریم ﷺ کی مکی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ اگر صرف ظاہری حالات دیکھے جاتے تو امید کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی، مگر آپ ﷺ نے مایوسی نہیں سکھائی۔ آپ ﷺ نے حالات سے بھاگنے کے بجائے حکمت، صبر، کردار اور مسلسل جدوجہد کا راستہ دکھایا۔
آج ہمیں بھی یہی سبق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حالات ہمارے مطابق نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل ختم ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمیں زیادہ سنجیدگی، زیادہ حکمت اور زیادہ تیاری کی ضرورت ہے۔ جذباتی نعروں سے نکل کر تعلیمی انقلاب کی طرف بڑھنا ہوگا۔ وقتی شور سے نکل کر مستقل منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ صرف شکایتیں کرنے کے بجائے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔
ایک اور خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ماحول کو حقیقی طاقت سمجھنے لگے ہیں۔ چند جذباتی ویڈیوز، اشتعال انگیز تقاریر اور وائرل پوسٹس وقتی ردعمل تو پیدا کر دیتی ہیں، مگر زمین پر قوموں کی تقدیر تعلیم، معیشت اور تنظیم بدلتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم، اپنی معاشی حالت اور اپنے سماجی کردار پر توجہ دینی ہوگی۔یہ وقت ایک دوسرے کو کوسنے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سنبھالنے کا ہے۔ اگر معاشرے میں خوف بڑھ رہا ہے تو ہمیں امید پھیلانی چاہیے۔ اگر نفرت کی زبان بولی جا رہی ہے تو ہمیں حکمت اور اخلاق کی زبان اختیار کرنی چاہیے۔ اگر کچھ لوگ تقسیم چاہتے ہیں تو ہمیں اتحاد اور شعور کی بات کرنی چاہیے۔ کیونکہ نفرت کا جواب نفرت نہیں ہوتا، بلکہ اعلیٰ کردار اور مضبوط حکمت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی دعاؤں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم اکثر نتائج آنے کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہیں، مگر نتائج آنے سے پہلے ہماری اکثریت غفلت میں مبتلا رہتی ہے۔ دعا صرف ہار کے بعد آنسو بہانے کا نام نہیں، بلکہ جیت سے پہلے تیاری، خوف سے پہلے رجوع، اور آزمائش سے پہلے تعلق مع اللہ کا نام ہے۔ جو قومیں صرف مصیبت آنے پر جاگتی ہیں، وہ بار بار آزمائشوں کا شکار ہوتی ہیں۔ جمہوریت کے موسم ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی فضا موافق ہوتی ہے، کبھی حالات مخالف دکھائی دیتے ہیں۔ مگر باشعور قومیں صرف اقتدار کے بدلنے سے اپنے حوصلے نہیں ہارتیں۔ وہ جانتی ہیں کہ سیاسی تبدیلیاں وقتی ہوتی ہیں، جبکہ قوموں کی اصل طاقت ان کے علم، کردار، صبر اور حکمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔












