• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, جون 2, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

بنگال کے نتائج اور ہماری ذمہ داریاں

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 8, 2026
0 0
A A
بنگال کے نتائج اور ہماری ذمہ داریاں
Share on FacebookShare on Twitter

جمہوریت میں انتخابی نتائج صرف حکومتیں تبدیل نہیں کرتے بلکہ معاشروں کے مزاج، قوموں کے اعتماد اور طبقوں کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ریاست میں سیاسی تبدیلی آتی ہے تو اس کی بازگشت صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گلیوں، بازاروں، مسجدوں، تعلیمی اداروں اور گھروں تک سنائی دیتی ہے۔ بنگال میں بی جے پی کی حالیہ کامیابی کے بعد بھی ایک ایسا ہی ماحول پیدا ہوا ہے۔ ایک طبقہ جشن اور فتح کے احساس میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ بے چینی، خوف اور مایوسی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ بعض سیاسی رہنما اقتدار میں آتے ہی کھلے لفظوں میں یہ کہنے لگے ہیں کہ وہ صرف انہی لوگوں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ ایسے بیانات یقیناً ایک جمہوری ذہن رکھنے والے انسان کے لیے باعثِ تشویش ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حالات میں مایوسی اختیار کرنا دانشمندی ہے؟ کیا خوف اور بے بسی کا ماحول ہی مستقبل کا راستہ متعین کرے گا؟ یا پھر وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور شعور سے کام لیا جائے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی نتائج کو اکثر تقدیر کا آخری فیصلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی جماعت کامیاب ہو جائے تو کچھ لوگ اسے اپنی مکمل فتح تصور کرتے ہیں، اور اگر شکست ہو جائے تو کچھ لوگ ایسے ٹوٹ جاتے ہیں جیسے اب ان کے لیے جینے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا ہو۔ حالانکہ جمہوریت میں اقتدار کا آنا جانا ایک مستقل حقیقت ہے۔ آج ایک جماعت اقتدار میں ہے، کل دوسری ہو سکتی ہے۔ مگر قومیں صرف حکومتوں سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ اپنے علم، کردار، اتحاد، معیشت اور حکمت سے زندہ رہتی ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ صرف سیاسی نعروں سے کسی قوم کی حفاظت نہیں ہوتی۔ جو قومیں صرف جذبات میں جیتی ہیں، وہ وقتی شور تو پیدا کر لیتی ہیں مگر تاریخ میں مضبوط مقام حاصل نہیں کر پاتیں۔ مضبوط قومیں وہ ہوتی ہیں جو ہر بحران میں خود احتسابی کرتی ہیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانتی ہیں اور خاموشی سے اپنی بنیادیں مضبوط کرتی ہیں۔
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ہم ہر انتخاب کے بعد اتنے بے چین کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی زندگی کو صرف سیاست تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ اگر اقتدار ہمارے پسندیدہ لوگوں کے پاس ہو تو سب کچھ محفوظ ہے، اور اگر اقتدار مخالفین کے پاس چلا جائے تو سب کچھ ختم ہو گیا۔ یہی سوچ ہمیں بار بار ذہنی شکست کی طرف لے جاتی ہے۔سچ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت صرف اقتدار نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی بہت سی عظیم قومیں تاریخ سے مٹ چکی ہوتیں۔ قوموں کی اصل طاقت تعلیم، معیشت، اخلاق، اتحاد، سماجی اثر و رسوخ اور فکری پختگی میں ہوتی ہے۔ اگر ایک قوم ان میدانوں میں مضبوط ہو جائے تو سیاسی اتار چڑھاؤ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ہماری ایک بڑی کمزوری غفلت ہے۔ ہم نتائج آنے کے بعد دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں، افسوس کرتے ہیں، تجزیے کرتے ہیں، مگر نتائج آنے سے پہلے نہ ہماری دعاؤں میں وہ تڑپ ہوتی ہے، نہ ہماری منصوبہ بندی میں وہ سنجیدگی۔ ہم اکثر جذباتی نعروں اور وقتی جوش میں تو آگے ہوتے ہیں، مگر مستقل مزاجی کے ساتھ علمی، سماجی اور سیاسی تیاری نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالات بدلتے ہیں تو ہم حیران رہ جاتے ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو زیادہ تر جذبات دیے، حکمت نہیں دی۔ خوف دیا، اعتماد نہیں دیا۔ احتجاج کا جذبہ دیا، تیاری کا شعور نہیں دیا۔ حالانکہ آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ نوجوان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں، سول سروسز میں جائیں، قانون، میڈیا، تجارت، ٹیکنالوجی اور سماجی قیادت میں اپنی جگہ بنائیں۔ صرف جلسے جلوس کسی قوم کو محفوظ نہیں بناتے، بلکہ اداروں میں مضبوط موجودگی قوموں کو طاقت دیتی ہے۔اسی طرح مذہبی اور سماجی قیادت کو بھی اپنے انداز پر غور کرنا ہوگا۔ قوموں کو ہر وقت خوفزدہ رکھنا اصلاح نہیں کہلاتا۔ اگر ہر شکست کے بعد صرف یہ بتایا جائے کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا، تو یہ قوم کے حوصلے توڑنے کے مترادف ہے۔ اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو اندھیروں میں امید پیدا کرے، بے چینی میں توازن سکھائے، اور جذبات میں حکمت پیدا کرے۔
بنگال کے موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت اسی حکمت کی ہے۔ اگر کچھ سیاسی رہنما اقتدار کے نشے میں ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے تقسیم کا احساس پیدا ہو رہا ہے، تو اس کا جواب اشتعال نہیں بلکہ صبر، کردار اور آئینی شعور سے دیا جانا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اشتعال وقتی سکون تو دے سکتا ہے، مگر مستقل نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ جبکہ حکمت خاموش ہوتی ہے، مگر اس کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہی قومیں باقی رہیں جنہوں نے صبر اور تدبر کا راستہ اختیار کیا۔ نبی کریم ﷺ کی مکی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ اگر صرف ظاہری حالات دیکھے جاتے تو امید کی کوئی کرن دکھائی نہ دیتی، مگر آپ ﷺ نے مایوسی نہیں سکھائی۔ آپ ﷺ نے حالات سے بھاگنے کے بجائے حکمت، صبر، کردار اور مسلسل جدوجہد کا راستہ دکھایا۔
آج ہمیں بھی یہی سبق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حالات ہمارے مطابق نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل ختم ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمیں زیادہ سنجیدگی، زیادہ حکمت اور زیادہ تیاری کی ضرورت ہے۔ جذباتی نعروں سے نکل کر تعلیمی انقلاب کی طرف بڑھنا ہوگا۔ وقتی شور سے نکل کر مستقل منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ صرف شکایتیں کرنے کے بجائے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔
ایک اور خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ماحول کو حقیقی طاقت سمجھنے لگے ہیں۔ چند جذباتی ویڈیوز، اشتعال انگیز تقاریر اور وائرل پوسٹس وقتی ردعمل تو پیدا کر دیتی ہیں، مگر زمین پر قوموں کی تقدیر تعلیم، معیشت اور تنظیم بدلتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم، اپنی معاشی حالت اور اپنے سماجی کردار پر توجہ دینی ہوگی۔یہ وقت ایک دوسرے کو کوسنے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سنبھالنے کا ہے۔ اگر معاشرے میں خوف بڑھ رہا ہے تو ہمیں امید پھیلانی چاہیے۔ اگر نفرت کی زبان بولی جا رہی ہے تو ہمیں حکمت اور اخلاق کی زبان اختیار کرنی چاہیے۔ اگر کچھ لوگ تقسیم چاہتے ہیں تو ہمیں اتحاد اور شعور کی بات کرنی چاہیے۔ کیونکہ نفرت کا جواب نفرت نہیں ہوتا، بلکہ اعلیٰ کردار اور مضبوط حکمت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنی دعاؤں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم اکثر نتائج آنے کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہیں، مگر نتائج آنے سے پہلے ہماری اکثریت غفلت میں مبتلا رہتی ہے۔ دعا صرف ہار کے بعد آنسو بہانے کا نام نہیں، بلکہ جیت سے پہلے تیاری، خوف سے پہلے رجوع، اور آزمائش سے پہلے تعلق مع اللہ کا نام ہے۔ جو قومیں صرف مصیبت آنے پر جاگتی ہیں، وہ بار بار آزمائشوں کا شکار ہوتی ہیں۔ جمہوریت کے موسم ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی فضا موافق ہوتی ہے، کبھی حالات مخالف دکھائی دیتے ہیں۔ مگر باشعور قومیں صرف اقتدار کے بدلنے سے اپنے حوصلے نہیں ہارتیں۔ وہ جانتی ہیں کہ سیاسی تبدیلیاں وقتی ہوتی ہیں، جبکہ قوموں کی اصل طاقت ان کے علم، کردار، صبر اور حکمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist