شعیب رضا فاطمی
عاپ ایک بار پھر سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے ۔وجہ وہی ہے کہ دہلی میو نسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج کو آئے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہو گئے لیکن مئیر کا انتخاب نہیں ہو پایا ہے ۔حالنکہ اس دوران تین بار اس کی کوشش ہو چکی ہے لیکن اس دوران دو میٹنگوں میں صرف کونسلرس نے حلف لیا ہے ۔گذشتہ 6 فروری کا تو صرف ایک ایجنڈہ تھا کہ مئیر کا انتخاب ہونا ہے لیکن گورنر کے ذریعہ نامزد ایلڈر مین کے ووٹنگ کے حق کو لے کر عام آدمی پارٹی کے ممبران نے اعتراض کیا اور بی جے پی کی پریزائڈنگ آفیسر ستیہ شرما ایلڈر مین کے ووٹنگ میں حصہ لینے کے لئے بضد رہیں اور پھر ہاؤس کی تمام کارروائیاں غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دی گئی۔اس سلسلے میں عاپ کے لیڈران کا کہنا ہے کہ بی جے پی جمہوریت ،آئین اور D. M .C ۔ایکٹ کا گلا گھونٹتے ہوئے کارپوریشن میں مئیر کا انتخاب نہیں ہونے دے رہی ہے ۔دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ کارپوریشن کے انتخاب میں عاپ کو اکثریت حاصل ہے اورہاؤس میں اس کے 151ووٹ ہیں جبکہ بی جے پی کے صرف 105 ووٹر ہی ہیں۔کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ انتخاب کا نتیجہ آنے کے بعد ہی بی جے پی کے سینئیر لیڈران نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اکثریت چاہے جسے حاصل ہو میئر تو ہمارا ہی بنیگا ۔اور اب بی جے پی اپنے اس بے دلیل دعوے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔عاپ کے لیڈران کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ گذشتہ پندرہ برسوں میں بی جے پی نے کارپوریشن میں جو بد عنوانی کی ہے اس پر سے عاپ کا مئیر بنتے ہی پردہ اٹھنا شروع ہو جائے گا اور پھر ان کے انگنت لیڈران جیل کی سلاخوں کے پیچھ ہونگے ۔ایسے میں بی جے پی کسی قیمت پر میئر کے انتخاب کے حق میں نہیں ہے اور اس پوری سازش کو کامیاب بنانے کے لئے لیفٹینینٹ گورنر نے کمان سنبھال رکھی ہے ۔عاپ کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ایل جی کے درمیان کی سرد جنگ اب منظر عام پر آچکی ہے اور اب آئے دن دونوں طرف سے حملے ہوتے رہتے ہیں تازہ واقعہ یہ ہے کہ عاپ دہلی کے اسکولوں میں اساتذہ سمیت پرنسپل کی بحالی کرنا چاہتی ہے لیکن ایل جی کا کہنا ہے کہ پہلے یہ پتہ لگایا جائے کہ آیا دہلی کے اسکولوں میں اس تقرری کی ضرورت ہے یا نہیں ۔اور اس پر نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ٹوئٹرپر جواب دیا ہے کہ پہلے دہلی کے لوگوں سے سروے کر کے یہ پتہ لگانا زیادہ ضروری ہے کہ دہلی میں لیفٹینینٹ ہاؤس کی ضرورت ہے یا نہیں ۔
میونسپل کارپوریشن کے فعال ہونے کے درمیان دہلی سرکار اور مرکزی سرکار کے درمیان کا تنازعہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور اس کے حل کی کوئی چورت اس لئے بھی نظر نہیں آ رہی ہے کہ دونوں فریق ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لامحالہ مئیر کا انتخاب ہو بھی گیا تو پھر اسٹینڈنگ کمیٹی کے بننے میں بھی کافی داؤ پیچ آزمائے جائینگے کیونکہ دہلی کارپوریشن کی آئین کے مطابق اسٹینڈنگ کمیٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مئیر اور ہاؤس کے ذریعہ لئے گئے کسی بھی فیصلے اور پروپوزل کو رد کردے ۔اور بی جے پی یہاں بھی اپنی پوری کوشش کریگی کہ وہ اپنے حق کے فیصلوں کو ہی عمل کی شاہراہ پر چلنے دے ۔کل ملا کر بی جے پی دہلی میں اب پوری طرح غیر آئینی حرکتوں پر اتر آئی ہے اور اب وہ اروند کیجریوال کو کوئی بھی ایسا موقعہ دینے کے حق میں نہیں ہے جس سے عوام پر ان کی پکڑ مضبوط ہو ۔












