لندن(ہ س)۔برطانیہ میں یہودیوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم کے اراکین نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کو اسرائیل کی روح کچل دینے والی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ جنگ سے مزید آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے ہیں۔جمعرات کے روز برطانوی یہودیوں کی اسرائیلی قیادت کی حمایت کی پالیسی کے مجلس نائبین سمیت 36 اہم یہودیوں نے ممتاز اخبار فنانشل ٹائمز میں تحریر کردہ ایک کھلے خط میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو موجودہ جنگ اور جنگی پالیسی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہہے۔ان یہودی رہنماؤں نے لکھا ہے ‘ ہماری آنکھوں کوجنگ سے مزید نہ ہٹایا جائے، جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب ہمارے لیے بھی ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ اس لیے ہماری یہودی اقدار ہمیں سر عام کھڑے ہو کر بولنے پر مجبور کرنے لگی ہیں۔ اس خط پر بورڈ آف ڈپٹی کے آٹھ ارکان میں سے بھی ایک کے دستخط موجود ہیں۔تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے پر پھیلی اور اکاون ہزار فلسطینیوں سے زیادہ کو قتل کرنے کا باعث بننے والی جنگ کے سلسلے میں یہودیوں کی اعلیٰ ترین فورم کے ان ارکان نے اس طرح کھلے عام اسرائیلی حکومت کی جنگی پالیسی اور جنگ پر تنقید کا فیصلہ کیا ہے۔غزہ جنگ میں قتل کیے گئے ان ہزاروں فلسطینیوں میں دو تہائی کے قریب فلسطینی بچے اور خواتین ہیں، جن کے بارے میں امریکہ اور یورپ میں اسرائیل کی انتہا پسندانہ حمایتی پر مبنی پالیسی کے باوجود عوامی سح پر سخت تنقید اور غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔یہودی گروپ کے ان ارکان نے اپنے خط میں اسی وجہ سے لکھا ہے کہ 18 مارچ سے از سر نو شروع کی گئی جنگ کے بعد سے ہونے والے جانی نقصان پر ہم اب انکھیں بند رکھ سکتے ہیں نہ زبانیں بند رکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے 18 مارچ سے اب تک ایک ماہ کے دوران لگ بھگ 1700 فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔ ان میں بھی بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔کیونکہ فنانشل ٹائمز میں شائع شدہ خط کے مطابق اب اس جنگ کے ذریعے اسرائیل کی روح کچلی جارہی ہے۔ لہذا ہم برطانوی یہودیوں کے نائبین کی مجلس کو اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں خوف محسوس ہونے لگا ہے۔ ہم اسرائیل سے محبت کرتے ہیں اس لیے پریشان ہیں۔ان یہودی دستخط کنندگان نے اسرائیل کی حکومتوں پر مغربی کنارے میں یہودی انتہا پسندوں کے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کھلی حوصلہ افزائی کا الزام بھی لگاتے ہوئے کہا ہے ‘ہم جنگ کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔یہودی نائبین کے ایک ترجمان نے برطانیہ کے اخبار گارڈین سے کہا دیگر نائبین جنگ کا حماس کو ہی ذمہ دارقرار دیں گے۔یہودی نائبین کے صدر فل روزنبرگ نے بھی اس خط لکھنے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ جیسے اس فورم کی یہ مجموعی رائے ہے۔ نیز یہ کہ دوسری بار جنگ شروع کرنے کا حماس کو بالکل ذمہ دار نہیں بتایا گیا نہ ہی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی نہ ہونے کی ذمہ داری حماس پر ڈالی گئی ہے۔ ایسا کرنے سے سب کو اتفاق نہیں ہو سکتا۔












