سید مجاہد حسین
شمال مشرقی ریاست منی پور سے جن اچھی اور اطمینان بخش خبروں کی امید کی جارہی تھی ،وہ شاید جلد ممکن نہیں لگتی ۔مئی کے آغاز سے منی پور آج بھی تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے ۔ریاست میں امن و قانون کا شدید بحران ہے اور صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے ۔حکام ایسے ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ،شاید انہیںکسی آسمانی مدد کا انتظار ہے۔بلاشبہ تنازعہ کو سلجھانے کی کوششیں ہوئیں ،لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی تدابیر اختیار کی گئیں لیکن کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا۔یہاں تک کہ وزیر داخلہ امت شاہ بھی اسکا کوئی حل نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔اس لئے سوال اٹھ رہا ہے کہ اب امن و قانون کی بات کیسے ہوگی اور دونوں برادریوں کے لوگوں میں اعتماد کی بحالی کی راہ کیسے ہموار کی جاسکے گی۔ قابل فکر پہلو یہ ہے کہ تقریبا ڈیڑھ ماہ سے تشدد اور فساد کی آگ میں جھلس رہے منی پور کی دونوں مشتعل برادریوں میں غصہ آج بھی اتنا ہی بھرا ہوا ہے جیسا شروع میں تھا۔ جس طرح پہلے خبریں آرہی تھیں اس سے کہیں زیادہ ڈرا دینے والی خبریں اب موصول ہو رہی ہے ۔جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اب وہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔تازہ اطلاعات کے مطابق آج 400 لوگوں پر مشتعل فسادیوں کی ایک بھیڑ نے سیکورٹی فورسیز کے اسلحہ کے گودام پر دھاوا بول دیا اور اسے آگ کے حوالے کردیا۔سیکورٹی کے جوانوں پر آٹو میٹک ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی ،اتنا ہی نہیں فسادیوں نے فساد زدہ علاقوں میں بی جے پی کے لیڈروں کے گھروں کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی جلا ڈالا۔اس سے قبل ایک ایمبولینس میں تین لوگوں کو جلادیا گیا تھا ،کچھ دن پہلے بھی ایک تھانے کودنگائیوں نے لوٹ لیا تھااور تھانے سے پولس اہلکار وں کو اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑا تھا۔ وہیں بی جے پی کے ایم ایل اے کے گھر میں توڑ پھوڑ کی کوشش ہوئی تھی۔حالانکہ ریاست میں دفعہ 144 نافذ ہے اور انٹر نیٹ بند ہے،باوجود اس کے کہ کئی علاقوں میں فوج کے جوان ، آر اے ایف اور علاقہ کی پولس فورس اپنے جدید ہتھیاروں کے ساتھ تعینات ہے لیکن فسادیوں کو جہاں موقع ملتا ہے ، وہ تین اور چار سو کی تعداد میں اکھٹا ہوکر ٹارگیٹ پر دھاوا بول دیتے ہیں، اسے آگ کے حوالے کردیتے اور جی بھر کے توڑ پھوڑ مچاتے ہیں ۔بد قسمتی کی بات ہے کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ، اب تک کئی تھانے لوٹ پاٹ اور توڑ پھوڑ کی نذر ہو چکے ہیں ۔عالم یہ ہے کہ عام لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور حالات سے تنگ آکر اب تک 40 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ! یہاں تک کہ اب سابق آرمی چیف بھی بلبلا اٹھے!لیکن حکومت بے بسی کے عالم میں کھڑی نظر آتی ہے !۔مزحکہ خیز بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے اپنے گھر کے باہراس تحریر کے ساتھ باکس نصب کر دیا کہ لوٹے گئے ہتھیاروں کو اس باکس میں واپس کر دیا جائے ،ان لوگوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ڈیڑھ مہینے کے دوران سوا سو کے لگ بھگ لوگ مارے جا چکے ہیں اور کئی درجن گرفتار ہو چکے ہیں لیکن حالات تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔تازہ حالات سے عام شہری ہی خوف زدہ نہیں بلکہ پولس کے جوان بھی ڈیوٹی کرتے ڈ ررہے ہیں ان کو اپنی جان کا خوف ستانے لگا ہے لہذا ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ جہاں چاہے ڈیوٹی انجام دے سکتے ہیں۔ادھرریاست میں ہونے والے تشدد کے واقعات اب انٹلیکچوئل اور دانش وروں کو بھی بے چین کرنے لگے ہیں۔ بعض نے منی پور کے حالات کا موازنہ شام اور لبنان کے حالات سے کیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ حالات جلد سے جلد سدھریں اور امن قائم ہو ۔منی پور کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق آرمی چیف وید پرکاش ملک کو کہنا پڑا کہ منی پور میں امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطح پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس ٹوئیٹ سے ایک بات تو ظاہر ہوجاتی ہے کہ وید پرکاش کو یہ کیوں کہنا پڑا اور کن حالات میں کہنا پڑا! ۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ریاست میں امن و قانون کی بحالی کی کوششوں سے کیا ہار مان لی گئی ہے؟،جبکہ ایسا دیگر ریاستوں میں تو نہیں دیکھا گیا!۔اتر پردیش کی مثال سامنے ہے ،جب این آر سی اور سی اے اے مخالف مظاہروں پر مظاہرین کے ساتھ کتنا سخت سلوک روا رکھا گیا !،اس وقت معمولی سے مظاہے کرنے پر نہ صرف مظاہرین کے ناموں کی تختیاں اتر پردیش کے چوراہوں پر ٹانگ دی گئیںبلکہ سیکڑوں کی تعداد میںگرفتاریاں ہوئیں ۔ مظاہرین پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کاسنگین الزام ہی نہیں لگا بلکہ قرقی اور بھرپائی کے نوٹس تھما ئے گئے!ہم اس کی تائید ہر گز نہیں کرتے لیکن ایکشن میں برابری کا فقدان پایا جارہا ہے! ریاستی اور مرکز کی وہ شجاعت منی پور میں میںکم ہی نظر آرہی ہے ! جبکہ وہاں پولس تھانے تک لوٹ لئے جارہے ہیں ،اسلحوں کے گودام جلا دئے جارہے ہیں،،ان سب کے باوجود الٹایہ کہ فسادیوں سےان کی شناخت چھپائے رکھنے کی شرط کے ساتھ تھانے سے لوٹے گئے اسلحوں کو واپس کرنے کے لئے فریاد بھر کی جارہی ہے ؟
بہر حال ،یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ریاست کے حالات ایسے کیوں ہیں ،اور کیوں تنازعہ کے حل میں ہنوز ناکامی ہاتھ لگ رہی ہے !۔ آخرکار حکومت کے سامنے ایسی کیا مجبوری ہے،کہ وہ دنگائیوں کے خلاف کسی بھی انتہائی سخت ایکشن سے گریزاں ہے ! وہیں ،سابق آرمی چیف کا وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ سے لگتا ہے کہ ریاست میں حالات کی نوعیت کیا ہے!۔امید ہے کہ عام شہری نہ سہی ،ایک آرمی چیف کی فریادپر توکچھ نہ کچھ توجہ دی جائےگی۔بلاشبہ حالات کو پر امن بنانے کے لئے سبھی کی طرف سے کوششیں لازمی ہیں ،لیکن پھر بھی غصہ کی آگ کو تو ٹھنڈا کرنا ہی ہوگا، جو کافی چیلنج بھرا لگتاہے۔












