نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی تکمیل پر دنیا بھر سے زبردست مثبت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، غیر ملکی سیاسی قیادت، عالمی کاروباری رہنماؤں اور معروف پالیسی ماہرین نے اس معاہدے کی بہت تعریف کی ہے۔ اس معاہدے کو معاشی اور جغرافیائی وسیاسی دونوں اعتبار سے تاریخی، اسٹریٹجک اور بروقت قرار دیا جا رہا ہے۔دنیا کے بڑے اور معتبر میڈیا اداروں نے بھارت -یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے دائرۂ کار، اہمیت اور اسٹریٹجک لحاظ سے مناسب وقت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔دی ٹیلی گراف نے جیمز کرسپ کے مضمون’’ مودی از ریئل ونر ان مدر آف آل ٹریڈ ڈیلز ود ای یو‘‘ میں اس معاہدے کو ’’تمام تجارتی معاہدوں میں سب سے اہم معاہدہ ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے بھارت ایک بڑے اسٹریٹجک فاتح ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ اخبار کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کی بھارت کو ہونے والی برآمدات پر 96.6 فیصد محصولات ختم یا کم کیے جائیں گے، جبکہ یورپی یونین سات سال کے اندر بھارت کی 99.5 فیصد اشیا ءپر محصولات کم کرے گی۔دی وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاہدے کو عالمی سطح پر محصولات میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال کے جواب کے طور پر پیش کیا ہے اور بتایا کہ امریکہ کی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے غیر یقینی کے حالات کے دوران بھارت اور یورپی یونین اپنے اتحاد کومضبوط کر رہے ہیں۔دی نیویارک ٹائمز نے زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ تقریباً دو دہائیوں کی بات چیت کے بعد دنیا کے سب سے بڑے معاشی بلاک اور تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشت کو ایک ساتھ لاتا ہے۔دی واشنگٹن پوسٹ نے اسے تاریخی معاہدہ قرار دیتے ہوئے سرخی لگائی ہے:’’انڈیا اینڈ ای یو کلنچ دی مدر آف آل ڈیلز: ای یو اینڈ انڈیا سائن فری ٹریڈ ایگریمنٹ‘‘ یعنی بھارت اور یورپی یونین نے تاریخی آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کرکےتمام معاہدوں میں سب سے اہم معاہدہ کیا ہے۔دی گارجین نے بھی اسے ’’تمام معاہدوں میں سب سےاہم ‘‘ قرار دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ یورپی یونین اور بھارت نے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔اسی طرح بی بی سی کی سرخی ہے:’’بھارت اور یورپی یونین نے تمام تجارتی معاہدوں میں سب سے اہم معاہدے کا اعلان کر دیا۔‘‘بلومبرگ نے سپلائی چین کے مزید مضبوط ہونے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑیوں پر محصول 100 فیصد سے زیادہ کی سطح سے کم ہو کر 10 فیصد تک آ جائے گی، جبکہ گاڑیوں کے کل پرزے پر محصولات مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین نے ایسا آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کیا ہے جو عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔الجزیرہ نے بھی اس معاہدے کی وسعت کو نمایاں کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ 27 ٹریلین ڈالر کی مشترکہ منڈی تشکیل دیتا ہے۔رائٹرز نے اسے ایک تاریخی معاہدہ قرار دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ بھارت اور یورپی یونین نے اہم تجارتی معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت زیادہ تر اشیا ءپر محصولات میں نمایاں کمی کی جائے گی۔












