ہمار سماج : منہاج احمد: سب کاساتھ سب کا وکاس اور سب کے وشواس کا نعرہ لگانے والے نریندر مودی جی نے ایک بار پھر یہ اعلان کر کے امید کی کرن جگا دی ہے کہ پسماندہ برادری کے مسلمان پر ہماری سرکار مسلسل کام کر رہی ہے اور ان کو مین اسٹریم میں لانے کے ہماری جدوجہد رنگ لا رہی ہے ۔مودی جی کے اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا نشانہ عام مسلمانوں کی جگہ اب پسماندہ مسلمان ہیں اور وہ رفتہ رفتہ بی جے پی کی طرف بڑھ بھی رہے ہیں ۔یقینا مودی جی کے ذریعہ پسماندہ مسلمانوں کے ذکر سے ہی ملک کے پسماندہ مسلمانوں میں ایک نیا جوش بھر گیا ہے ۔ان 42 پسماندہ برادریوں کے قائدین کا یہ کہنا ہے کہ ہماری مجموعی پسماندہ آبادی ملک کے جملہ مسلمانوں کی آبادی کا 90فیصد ہے اور ہر دور میں ہمارے اوپر مسلمانوں کے 10فیصد اشرافیہ طبقہ کے لوگوں نے حکومت کی ہے لیکن پہلی بار ہمارے وزیر اعظم نے ہماری ترقی کے بارے میں سوچا ہے تو ہمیں ان پر اعتماد کرنا ہوگا ۔
یوں تو اکثر ایسے بیانات پسماندہ برادری کے جلسوں میں دئے جاتے ہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کے اشرافیہ طبقہ کو پسماندہ مسلمان پوری طرح حاشیہ میں ڈال سکتے ہیں لیکن اس میں تاخیر اس لئے ہو رہی ہے کہ مودی جی کے دور اقتدار میں مسلمانوں کے نام پر جو ظلم و زیادتی میں اضافہ ہوا ہے اس میں 90 فیصد آبادی والے طبقہ کاہی زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ماب لنچنگ میں بھی پسماندہ برادری کے لوگ ہی مارے گئے ہیں ۔مساجد و خانقاہوں میں بھی زیادہ تر کارکنان پسماندہ برادریوں کے ہی ہیں ایسے میں آر ایس ایس اور ہندو بجرنگ دل کے علاوہ جن تنظیموں کے ذریعہ مسلمانون کے خلاف کبھی حجاب اور کبھی زیادہ بچے پیدا کرنے کا جو الزام لگا کر انہیں ذلیل کیا جاتا ہے ان میں بھی نشانہ پسماندہ برادری کے لوگ ہی بنتے ہیں ۔مسلمانوں کو جیسے ہی ہندو شدت پسند پنچر والا کہتے ہیں تو وہ سیدھے سیدھے پسماندہ برادری کے لوگوں کو گالی دیتے ہیں ۔مدارس اسلامیہ پر حملے کا جو روڈ میپ آر ایس نے تیار کر رکھا ہے اور مسلسل ان کو بند کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں وہاں بھی پسماندہ طبقے کے ہی طلبا ہوتے ہیں اور ان کے اساتذہ کی اکثریت بھی پسماندہ مسلمان ہی ہیں ۔
اردو زبان اور اس کے مرکزی اداروں سمیت یونیورسٹیز کے شعبہ اردو کو موجودہ مودی سرکار میں سب سے زیادہ تباہ کیا گیا ہے ،اردو اخبارات کے تمام اشتہارات کو بند کرکے بھی مودی جی نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس میں کام کرنے والے بھی پسماندہ طبقہ کے لوگوں کی ہی اکثریت ہے ۔ایسے میں بی جے پی سے پسماندہ طبقہ کے جڑنے کی جو خبر ہے اس میں کتنی سچائی ہے ؟یہ تحقیق کا موضوع ہے ۔لیکن اگر مودی جی چاہیں تو اس سب کاازالہ وہ کر سکتے ہیں اور اس کے لئے پہلا قدم انہیں اس طرح اٹھانا ہوگا کہ مولانا آزاد ایجوکیشن سوسائٹی سے ملنے والے اسکالر شپ کو جو انہوں نے روک دیا ہے اسے بحال کریں کیونکہ وہاں سے ملنے والے اسکالرشپ سے زیادہ تر پسماندہ طبقے کے طالب علم ہی فیضیاب ہوتے تھے ۔
ابھی تو یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ بی جے پی کی میٹنگوں میں بھی جو پسماندہ برادریوں کو متحد کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ان میں بھی پسماندہ برادری کے لوگوں کو اہمیت نہیں دی جاتی اور انہیں اسٹیج تک سے اتار دیا جاتا ہے ۔ایسے میں صرف یہ کہدینے سے کہ ہماری پارٹی پسماندہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے کیسے کام چل سکتا ہے ۔












