پٹنہ :7نومبر /سماج نیوز سروس ۔منگل کو بہار اسمبلی میں ذات پر مبنی حالیہ مردم شماری کی رپورٹ پر بحث ہو رہی ہے۔ آج رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کے بعد تمام جماعتوں کے ارکان اس پر بحث کریں گے۔اس رپورٹ کے اعدادو شمار چونکانے والے ہیں ۔بہار کے وزیر اعلی نے کافی جدوجہد کرنے کے بعد یہ سروے کرانے میں کامیاب ہوئے تھے ۔اور جب نتائج کو ٹیبل کر دیا گیا ہے تو اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ملک کی دیگر ریاستوں کا حال کیا ہوگا جسے سرکار لگاتار چھپاتی رہتی ہے ۔ رپورٹ میں شامل معاشی اور تعلیمی اعداد و شمار کو پیش کرنے سے پہلے عام کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں صرف سات فیصد لوگ گریجویٹ ہیں۔ اس کے علاوہ صرف 9.19 فیصد لوگوں نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اس سال کے شروع میں ریاست میں ذات پات کی مردم شماری کرائی گئی تھی اور اس کے نتائج گزشتہ ماہ ہی آئے تھے۔بہار میں 22.67 فیصد لوگوں نے پہلی سے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ 14.33 فیصد آبادی نے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ 14.71 فیصد آبادی نے نویں سے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ 9.19 فیصد آبادی نے گیارہویں سے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ صرف 7 فیصد لوگ ایسے ہیں جو گریجویٹ ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں پسماندہ طبقے کے 33 فیصد لوگوں کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار روپے تک ہے۔ 29 فیصد کی آمدنی 6 سے 10 ہزار ہے۔ 18 فیصد کی ماہانہ آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔ 10 فیصد کی آمدنی 20 سے 50 ہزار ہے اور صرف 4 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار یا اس سے زیادہ ہے۔درج فہرست ذات کے 42 فیصد لوگ ہیں جن کی ماہانہ آمدنی چھ ہزار تک ہے۔ 29 فیصد کی آمدنی چھ سے 10 ہزار کے درمیان ہے۔ 15 فیصد کی آمدنی 10-20 ہزار روپے ہے۔ پانچ فیصد کی آمدنی 20,000 سے 50,000 روپے کے درمیان ہے اور ایک فیصد کی آمدنی 50,000 روپے سے زیادہ ہے۔تقریباً 25 فیصد جنرل کیٹیگری کے لوگوں کی ماہانہ آمدنی 6 ہزار روپے تک ہے۔ 23 فیصد کی آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے ہے۔ 19 فیصد کی آمدنی 10 ہزار سے 20 ہزار روپے ہے۔ 16 فیصد کی آمدنی 20 ہزار سے 50 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ صرف 9 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔انتہائی پسماندہ طبقے میں 33 فیصد کی ماہانہ آمدنی 20 ہزار روپے تک ہے۔ 32 فیصد کی آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے ہے۔ 18 فیصد کی آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔ صرف 2 فیصد لوگوں کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے۔اسی طرح درج فہرست قبائل کے 42 فیصد لوگوں کی ماہانہ آمدنی 10 ہزار روپے تک ہے۔ 25 فیصد کی آمدنی 6 سے 10 ہزار روپے ہے۔ 16 فیصد لوگوں کی آمدنی 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔ 8 فیصد کی آمدنی 20 سے 50 ہزار روپے ہے۔ صرف 2.53 فیصد لوگوں کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے یا اس سے زیادہ ہے۔ابھی تو اس پر اسمبلی میں بحث ہوگی اور یقینا اس مباحثے سے نکل کر وہ ٹھوس پروگرام بھی سامنے آئے گا جس کا عزم بہار سرکار نے کر رکھا ہے ۔












