نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج :دہلی حکومت کی وزارتِ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام ’’اردو اساتذہ کا جشن‘‘ اتوار کو سینٹرل پارک، کناٹ پلیس، نئی دہلی میں کامیابی اور بھرپور عوامی شرکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس ادبی و ثقافتی جشن میں دہلی کے مختلف اسکولوں سے وابستہ اردو اساتذہ، طلبہ، ادبا اور ادب دوست حلقوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز استقبالیہ کلمات سے ہوا، جن میں اردو زبان کی تدریسی خدمات اور اساتذہ کے تعلیمی و فکری کردار کو سراہا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی کے۔ مہیش، آئی اے ایس، سکریٹری محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہلی حکومت دارالحکومت کو ایک فعال ثقافتی مرکز (کلچرل ہب) کے طور پر فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیرِ فن و ثقافت و السنہ کپل مشرا کی قیادت میں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے فروغ کے لیے متنوع پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اردو اکادمی کے ساتھ ساتھ میتھلی، پنجابی، ہندی اور سندھی اکادمیوں کے ذریعے بھی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں تمام زبانوں سے وابستہ شائقین کو شرکت کرنی چاہیے۔ پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی اور صفیر صدیقی نے انجام دی۔ جشن کا آغاز تقریری مقابلے سے ہوا، جو دو زمروں میں تقسیم تھا۔ پہلے زمرے میں ٹی جی ٹی اساتذہ کے مابین ’’ڈیجیٹل دور میں کلاس روم کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر تقریری مقابلہ ہوا۔ ججوں کی حیثیت سے شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ارشاد نیازی اور دہلی حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر جناب اشفاق عارفی شریک رہے۔ سات اساتذہ نے مقابلے میں حصہ لیا۔ ججوں کے فیصلے کے مطابق صائمہ ناز(زینت محل سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد) نے پہلی، کلثوم فاطمہ(زینت محل سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد) نے دوسری اور محمد دانش(سروودیہ بال ودیالیہ، جعفرآباد) نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ دوسرے زمرے میں پی جی ٹی اساتذہ کے لیے ’’اردو ادب کے فروغ میں اساتذہ کا فکری اور عملی کردار‘‘ کے موضوع پر تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں چھ اساتذہ نے شرکت کی۔ اس مقابلیمیں پہلی پوزیشن فرحان بیگ(ڈاکٹر ذاکرحسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد)، دوسری ڈاکٹر شہلا نواب(شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول) اور تیسری ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی(جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کے حصے میں آئی۔ کامیاب شرکاء کو بالترتیب دس ہزار، آٹھ ہزار اور پانچ ہزار روپے نقد انعام دیے گئے۔ مقابلے کے اختتام پر ڈاکٹر ارشاد نیازی نے کہا کہ موجودہ دور میں اساتذہ کو تدریس کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا اور کلاس روم و ڈیجیٹل تعلیم دونوں میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ جناب اشفاق عارفی نے موضوع کے عمیق مطالعے اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ طلبہ کے فکری معمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داریاں دوچند ہو جاتی ہیں۔ لنچ کے وقفے کے بعد اکادمی کے زیرِ انتظام اردو خواندگی مراکز کے طلبہ کو کورس کی تکمیل پر اسناد سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بیت بازی کا مقابلہ منعقد ہوا، جس میں بطور جج ڈاکٹر شفیع ایوب اور ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی موجود تھے۔ بارہ ٹیموں نے اس مقابلے میں شرکت کی۔ ججوں کے فیصلے کے مطابق ٹیم بی (محمد یونس، اسرار احمد اور وقاص حسین)نے پہلی، ٹیم جی (رخسانہ قیصر،اسماء صالحین اور تابندہ ناز)نے دوسری اور ٹیم ڈی (ڈاکٹر زاہد احسن، قمرالدین اورصالحہ الیاس) نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیم سی (عبدالرزاق زیادی،نفیس احمد اور رقیہ)کو حوصلہ افزائی انعام دیا گیا۔ اکادمی کی جانب سے کامیاب ٹیموں کو بالترتیب بارہ ہزار روپے، آٹھ ہزار روپے، پانچ ہزار روپے اور دو ہزار روپے نقد انعامات سے نوازا گیا۔












