چنڈی گڑھ، (یو این آئی) ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے چنڈی گڑھ میں مرکزی بجٹ 2026-27 کی اہم باریکیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بدھ کو کہا کہ یہ بجٹ خود کفیل ہندوستان کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے چار مضبوط ستون غریب، نوجوان، خواتین اور کسان، اس بجٹ کی ترجیحات ہیں۔ ملک کی معیشت کو فروغ دینے کے لیے عوامی سرمایہ کے اخراجات کو تقریباً 12 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نوجوانوں کی مہارت کی ترقی اور تعلیم کے شعبے کے لیے 1.39 لاکھ کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بائیوٹیکنالوجی اور سائبرسکیوریٹی جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا خصوصی فنڈ مختص کیا گیا ہے، جس سے گروگرام، فرید آباد، پنچکولہ اور روہتک جیسے تعلیمی اور تکنیکی مراکز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ سٹارٹ اپ اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لئے 7,500 کروڑ روپے کا التزام ہریانہ کے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔ خواتین کے روزگار، خود روزگار اور انٹرپرینیورشپ کے لیے تقریباً 8000 کروڑ روپے کا انتظام اور بائیو فارما مشن کے تحت 10 ہزار کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 20,000 کروڑ روپے اور طبی سیاحت کے لیے 5,000 کروڑ روپے کی امداد گروگرام، پنچکولہ، روہتک اور کرنال جیسے علاقوں میں فارما کلسٹرس، میڈیکل کالجوں اور جدید اسپتالوں کو نئی تحریک فراہم کرے گی۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے لیے 162,000 کروڑ روپے کی فراہمی باغبانی اور اعلیٰ قیمت والی فصلوں کو فروغ دے گی، جس سے جنوبی ہریانہ اور خشک علاقوں کے کسانوں کو نئے مواقع ملیں گے۔ 200 پرانے صنعتی کلسٹروں کا احیاء روایتی صنعتی شہروں جیسے پانی پت، یمونا نگر اور انبالا کو تقویت بخشے گا۔












