واشنگٹن۔ ایم این این۔ امریکی کانگریس کے ارکان نے ایک نیا دو جماعتی بل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد چین اور دیگر امریکی مخالف ممالک کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ہونے والی حساس سائنسی تحقیق سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔ اس قانون سازی کو “سیکیورنگ انوویشن اینڈ ریسرچ فرام ایڈورسریز ایکٹ” کا نام دیا گیا ہے۔بل کو امریکی ایوان نمائندگان کی چین سے متعلق خصوصی کمیٹی کے چیئرمین جان مولینار اور سینیٹر جم بنکسنے پیش کیا۔ اس کا مقصد وفاقی حکومت کی مالی معاونت سے ہونے والی تحقیق کو ایسے غیر ملکی اداروں کے اثر و رسوخ سے محفوظ بنانا ہے جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً چین۔قانون سازوں کے مطابق امریکی جامعات اور تحقیقی اداروں میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایوٹیکنالوجی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز پر ہونے والی تحقیق مستقبل میں عسکری استعمال کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہی تحقیق چین کی فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں کو تقویت دے سکتی ہے۔چیئرمین جان مولینار نے کہا کہ امریکی حکومت نے حالیہ برسوں میں تحقیقی سلامتی کے میدان میں اہم پیش رفت کی ہے، اور یہ بل ان اقدامات کو مستقل قانونی شکل دینے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل سے ہونے والی تحقیق کسی بھی صورت میں ایسے ممالک کے ہاتھ نہیں لگنی چاہیے جو مستقبل میں امریکہ کے خلاف استعمال ہو سکے۔بل کے تحت وفاقی اداروں، تحقیقی مراکز اور جامعات پر سخت تقاضے عائد کیے جائیں گے تاکہ وہ غیر ملکی شراکت داریوں اور فنڈنگ کے ذرائع کی مکمل جانچ پڑتال کریں۔ خاص طور پر ایسے منصوبوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی جو دوہری نوعیت کی ٹیکنالوجی سے متعلق ہوں۔یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، تجارت اور قومی سلامتی کے مسائل پر کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ تحقیق اور اختراع کے میدان میں امریکی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے حساس معلومات اور ٹیکنالوجی کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔












