بیجنگ ،(یواین آئی) چین نے آج اتوار کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو فوری طور پر رہا کرے، یہ مطالبہ واشنگٹن کی جانب سے کاراکاس پر حملے اور صدر مادورو و ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین امریکا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنائے، انہیں فوری طور پر رہا کرے اور وینزویلا کی حکومت کو گرانے کی کارروائیاں بند کرے۔ بیا ن میں امریکی کارروائی کو "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا گیا۔اس سے قبل گزشتہ روز ہفتے کے دن بیجنگ نے ایک بیان میں وینزویلا پر امریکی حملے کے فوراً بعد "ایک خودمختار ریاست اور اس کے صدر کے خلاف امریکا کی جانب سے طاقت کے استعمال” کی مذمت کی تھی۔چینی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے اقدامات کو بالادستی کی پالیسیوں کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، اور لاطینی امریکا و کیریبین کے خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔بیان میں امریکہ کے اقدامات پر "گہرے صدمے” اور شدید مخالفت کا اظہار کیا گیا، اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پابندی کرے، اور دیگر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی بند کرے۔گزشتہ روز علی الصبح دارالحکومت کاراکاس اور وینزویلا کے دیگر شہروں میں زور دار دھماکے سنے گئے، جن کے ساتھ جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔












