بیجنگ۔ ایم این این۔چین نے امریکی پابندیوں کے خلاف ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار باضابطہ “بلاکنگ آرڈر” جاری کیا ہے، جس کے تحت مقامی کمپنیوں کو امریکی اقدامات کو تسلیم کرنے یا ان پر عمل درآمد سے روک دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ان امریکی پابندیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جو حال ہی میں چینی آئل ریفائنریز پر عائد کی گئی تھیں، جن پر ایران سے تیل خریدنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ چین کی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں ان پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی تجارتی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ جاری کیے گئے حکم نامے کے تحت واضح کیا گیا ہے کہ چین کے اندر کوئی بھی ادارہ یا فرد امریکی پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گا، اور اگر کسی کو ان اقدامات کے باعث نقصان پہنچتا ہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔ امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں چین کی متعدد ریفائنریز، بشمول ہینگلی پیٹرو کیمیکل کو نشانہ بنایا تھا، جو واشنگٹن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، چین کا یہ “بلاکنگ آرڈر” اس کے انسدادِ پابندیاں قانون کے تحت ایک مضبوط پیغام ہے کہ بیجنگ اپنی کمپنیوں اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں جہاں ایران، چین اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ یہ اقدام عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ چینی ریفائنریز ایران کے تیل کی بڑی خریدار سمجھی جاتی ہیں اور ان پر پابندیاں عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، چین کا یہ قدم نہ صرف اقتصادی خودمختاری کے تحفظ کی کوشش ہے بلکہ عالمی سطح پر یکطرفہ پابندیوں کے خلاف ایک بڑے پالیسی ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔












