نئی دہلی،سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ اور سابق صدر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی،ارشاد احمد اور موجودہ صدر مدثر حیات اور ایگزیکٹیو ممبر مصباح طارق نے شام کے سفیر ڈاکٹر بسام سیف الدین الخطیب اور براس سلیمان تھرڈ سکریٹری شامی سفارت خانہ، دہلی سے ملاقات کی۔ شام میں آنے والی قدرتی تباہی کے سبب ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کے اس ماحول میں ہم ہندوستانی شامی شہریوں اور حکومت کے ساتھ قدم بدقدم کھڑے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد کرنے کو بھی تیار ہیں۔ اس ملاقات کے دوران شامی سفیر نے صورتحال سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ کم از کم ڈیڑھ لاکھ افراد صرف علیپو میںبے گھر ہو چکے ہیںاور 20 ہزار کے قریب لوگ جان گنواں چکے ہیں۔ ایسے میں اس وقت ادویات اور گرم کپڑوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ مشین ٹولز اور جے سی بی میں استعمال ہونے والے بہت سے آلات کی بھی ضرورت ہے۔ سفیر نے بتایا کہ وہاں بہت سے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور سردیوں کا موسم ہے، ایسے میں سردیوں کے کپڑے، کمبل اور دیگر چیزیں بہت ضروری ہیں۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ ارشاد احمد نے ملک ہند وستان کے اپنے دیگر بھائیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لوگ شام میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے جس طرح بھی ہوسکے مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ابھی تک شام میں کام کر رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، ملک کے عوام کو بھی شامی عوام کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ارشاد احمد نے کہا کہ انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں جلد ہی دہلی کے دانشوروں کی ایک میٹنگ بلائی جائے گی جس میں لوگوں کو ان تمام باتوں سے آگاہ کیا جائے گا اور لوگوں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ مصیبت میں پھنسے شامیوں کی مدد کریں اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔












