نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج:آج امروہہ فاؤنڈیشن کی جانب سے مصطفی مسجد جوگابائی، جامعہ نگر، اوکھلا میں ایک تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں ایران میں ہوئے دلسوز حادثے، جس میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھی جان بحق ہوئے ہیں، ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر امروہہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایران کے کلچرل کاؤنسل کو تعزیتی خط پیش کرکے غم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر امروہہ فاؤنڈیشن کے صدر فرمان حیدر نقوی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈاکٹر فرید فریداز کو تعزیتی خط دیا۔ اس پروگرام میں مولانا غلام حسین ہللوری صاحب نے قرآن کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کے بعد پروفیسر عزیز الدین مہادانی نے تفصیل سے بھارت اور ایران کے تعلقات پر اپنی آرا پیش کی اور ابراہیم رئیسی اور اس کے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے امروہہ فاؤنڈیشن کے اس پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے ایران اور ہندوستان کی تہذیب پر لوگوں کو نہایت اہم معلومات فراہم کی جس سے لوگ کافی متاثر ہوئے۔ انھوں نے ہندوستان اور ایران کے تعلقات پر بھی بات کی اور ابراہیم رئیسی کے بارے میں کہا کہ یہ لوگ شہید ہیں اور شہادت بہت بڑا مقام ہے۔ یہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا ہے۔ اس کے بعد پروفیسر عراق رضا زیدی صاحب نے بھی امروہہ فاؤنڈیشن کے کاموں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم مسلسل لوگوں کی خدمت میں لگی رہتی ہے۔ علاوہ ازیں اس طرح کے پروگرام کرکے قوم و ملت کی خدمت کرتی ہیں۔ عراق رضا زیدی صاحب نے ابراہیم رئیسی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں لوگوں سے کہا کہ انسانیت کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ان کے ذریعہ انجام دیے گئے کارہائے نمایاں کو ایران ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں یاد کیا جائے گا۔ ایران میں ہوئے اس حادثے سے پوری دنیا میں کھلبلی مچی ہوئے ہے اور پوری دنیا کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا جناب مہدی باقر صاحب نے ایران پر ہوئے اس حادثے میں شہید ہوئے لوگوں کے بارے میں لوگوں کو بتایا اور کہا، یہ سب لوگ بہت اہم مقام کے حامل تھے جو ایران کی ہر طرح کی پلاننگ میں شامل رہتے تھے۔ آخر میں ایران کے کلچر کاؤنسل ڈاکٹر فرید فریداز صاحب نے امروہہ فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں اس وقت جو یہ سب کچھ ہوا ہے اس سے پورے ایران میں ایک غم کا ماحول ہے اور اس مشکل گھڑی میں ہندوستان کی عوام کی جانب سے ایران کو جو محبت مل رہی ہے اس سے ہندوستان اور ایران کے تعلقات کی مضوطی کا پتہ چلتا ہے۔












