صدام حسین فیضی
رام پور،سماج نیوز سروس :ضلع میں صارفین کی مرضی کے خلاف بجلی کے محکمے کی جانب سے زبردستی پری پیڈ اسمارٹ میٹر لگانے کا معاملہ اب سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ ضلع کانگریس کمیٹی نے ایگزیکٹیو انجینئر، بجلی ڈسٹری بیوشن ڈیویژن فرسٹ کے دفتر پہنچ کر اس مسئلہ کو لے کر سخت احتجاج درج کروایا۔ضلع صدر پرمل کمار شرما نِکو پنڈت اور شہر صدر باقر علی خان کی قیادت میں ایک وفد ایگزیکٹیو انجینئر سے ملنے پہنچا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وقت لینےکے باوجود ایگزیکٹو انجینئر اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔ ان کی جگہ ایس ڈی او اجے رستوگی، پردیپ رائے اور سچن رستوگی (ایس ڈی او فرسٹ ڈویژن) نے بات چیت کی۔حکام نے وفد کو یقین دلایا کہ صارف کی تحریری اجازت کے بغیر کوئی پری پیڈ میٹر نہیں لگایا جائے گا۔ یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ اس سلسلے میں واضح ہدایت کے لیے حکومت کو خط لکھا جائے گا اور جن صارفین کے پاس پہلے سے پری پیڈ میٹر نصب ہیں ان کی درخواست پر انہیں پوسٹ پیڈ میٹرز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ضلع صدر پرمل کمار شرما نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا محکمہ بجلی نے آمریت کا سہارا لیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کو ڈرا دھمکا کر پری پیڈ میٹر استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہےجسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس من مانی کو فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو ضلع کانگریس کمیٹی سڑکوں سے کلکٹریٹ تک زبردست احتجاج شروع کرے گی اور ذمہ دار افسران کے خلاف عوامی غصہ نکالا جائے گا۔شہر صدر باقر علی خان نے کہایہ صارفین کے حقوق کی سیدھی خلاف ورزی ہے۔ محکمہ کو پہلے اپنی کوتاہیوں کو دور کرنا چاہیے اور پھر نیا نظام نافذ کرنا چاہیے۔ ریچارج کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ کانگریس پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر سطح پر ناانصافی کے خلاف لڑے گی۔اس دوران کانگریس قائدین نے واضح طور پر انتباہ دیا کہ اگر زبردستی میٹر لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو ضلع کانگریس کمیٹی اپنے کارکنوں، عہدیداروں اور عام لوگوں کے ساتھ مل کر ایک زبردست احتجاج کرے گی اور ضلع سطح پر جمہوری مخالفت درج کرائے گی جس کے لیے محکمہ بجلی کے افسران پوری طرح ذمہ دار ہوں گے۔اس موقع پر ساحر رضا خان، ہنی خان، محمد ذکی، فرید خان، شہباز خان ایڈووکیٹ، راجیش لودھی، اکبر علی خان، پورن لودھی، شیشوپال لودھی، شاویز خان، سرتاج، بھورا خان، زبیر، نعیم، سنیل، عرش، طاہر، سہیل، پرمود سمیت کارکنوں اور عہدیداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔












