شعیب رضا فاطمی
تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب کی گہما گہمی شباب پر ہے ۔وہاں 30نومبر کو انتخاب ہونا ہے اور اتفاق یہ ہے کہ وہاں بی جے پی کا دور دور تک نام ونشان نہیں ہے ۔تلنگانہ میں اصل سیاسی جنگ بی آر ایس جو اقتدار میں ہے اور جس کے وزیر اعلی کے سی آر ہیں اور کانگریس کے درمیان ہے ۔کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کامیابی کے بعد تلنگانہ میں کانگریس کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اس مقبولیت کا رشتہ راہل گاندھی کے بھارت جوڑو یاترا سے بھی جوڑا جا رہا ہے ۔کیونکہ عام طور پر سیاسی مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ دس برس بی جے پی سرکار کی کارکردگی دیکھنے کے بعد عام ہندوستانیوں کو اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی اور اس کے حواریوں کے ذریعہ کانگریس کے خلاف ایک جھوٹا پروپیگنڈہ مہم چلایا گیا تھا اور اس کا مقصد اقتدار پر قابض ہونے کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔اسی دوران راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کر کے اور بی جے پی کی اصلیت بتا کر بھی عوام کی آنکھیں کھول دیں اور یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ میں لوگ ایک بار پھر کانگریس کو اقتدار سونپنا چاہتے ہیں ۔
تلنگانہ کے باہر خاص طور پر دہلی میں یہ بات سوچی جا سکتی ہے کہ کانگریس کے سی آر کے مقابلے میں تلنگانہ میں کیونکر جیت سکتی ہے جب کہ وہاں اسد الدین اویسی خود موجود ہیں جو پورے ملک میں گھوم گھوم کر مسلمانوں کو کانگریس اور بی جے پی دونوں سے یکساں دوری بنائے رکھنے کی بات کرتے ہیں ۔اور ان کی پارٹی کے سی آر کے ساتھ سرکار میں ہے تو پھر تلنگانہ کے مسلمان کانگریس کے ساتھ کیسے جا سکتے ہیں کیونکہ پورے ملک میں دیکھا یہی جا رہا ہے کہ مسلمان بلا شرط کانگریس کے ساتھ ہیں اور اسی وجہ سے کانگریس کی امیدوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن تلنگانہ میں صورت حال بالکل الگ ہے کیونکہ وہاں اسد الدین اویسی ہیں اور جس طرح انہوں نے بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہر ریاست میں اپنی حاضری لگا رہے ہیں اور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے واحد مسیحا ہیں ۔
جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسد الدین اویسی کے بارے میں تلنگانہ کے عام مسلمانوں کی بھی وہی رائے ہے جو دوسری ریاستوں میں اور وہ یہ کہ اسد الدین اویسی کا نگریس کو نقصان پہنچانے کی ضد میں ہر جگہ بی جے پی کو ہی فائدہ پہنچاتے ہیں ۔اس بار بھی تلنگانہ میں اسد الدین اویسی صرف ان نو سیٹوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں جہاں مسلم اکثریت میں ہیں اور کانگریس جیت سکتی ہے ۔جبکہ انہوں نے اس سیٹ سے اپنا کینڈیڈیٹ نہیں اتارا ہے جہاں سے وہ بی جے پی کے امیدوار راجہ کو شکست دے سکتے تھے ۔
یعنی یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تلنگانہ کے عام مسلمان بھی اس بار کے سی آر کی جگہ کانگریس کے حق میں ہیں ۔
عام طور پر سیاسی حلقوں میں ابھی بھی یہ بات موضوع بحث ہے کہ پانچ کے پانچ اسمبلی انتخاب میں کامیابی کے باوجود عام انتخاب میں کانگریس کی کامیابی کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ جو ووٹر ابھی کانگریس کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں عام انتخاب میں وہی ووٹر بی جے پی کو ووٹ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ یہ ووٹر بھی بی جے پی کے جھوٹے داعوں سے کنفیوز ہو جاتے ہیں لیکن مسلمان اگر یہ طئے کرتے ہیں کہ وہ کانگریس کو ووٹ دینگے تو اس کے پیچھے ان کی دلیل ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ فرقہ پرستی سے نجات چاہتے ہیں ،نفرت سے نجات چاہتے ہیں ،امن و امان سے رہنا چاہتے ہیں ۔اور کانگریس کی نئی لیڈر شپ یہی وعدہ بھی کر رہی ہے ۔
تلنگانہ میں عام طور پر کانگریس کی مقبولیت کی بڑی وجہ کرناٹک میں کانگریس کا برسر اقتدار آنا بھی ہے ،بھارت جوڑو یاترا بھی ،اور کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی بھی ۔جن کی شفاف شبیہ اور بے لاگ گفتگو حیدرآبادی عوام کو پسند آ رہی ہے ۔راہل گاندھی کی اسی مقبولیت کے پیش نظر ہی بی جے پی نے تلنگانہ میں اب اپنی حکمت عملی بدل دی ہے ۔وہ اب خود کے جیتنے کی کوشش سے زیادہ کانگریس کو ہرانے کی کوشش زیادہ کر رہی ہے اور اس کے لئے وہ کے سی آر کے امیدواروں کو الگ الگ جگہ مختلف انداز میں مدد کر رہی ہے ۔اور یہ بات بھی تلنگانہ کے لوگ سمجھ رہے ہیں ،جو بی جے پی ہی نہیں بی آر ایس کے بھی حق میں نہیں ہے کیونکہ تلنگانہ کے لوگ اور خاص طور پر وہاں کے مسلمان ووٹر یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں سے متعلق بیشتر ایشو پر کے سی آر سرکار نریندر مودی کے ساتھ ہی کھڑی ہوتی رہی ہے یا پھر بائکاٹ کر کے بی جے پی کی حمایت کرتی نظر آئی ہے ۔
اور ان وجوہات کی بنیاد پر ہی نہایت سنجیدہ مبصرین بھی اب یہ کہنے لگے ہیں کہ تلنگانہ میں کانگریس سرکار بنانے کی سمت بڑھ چکی ہے ۔












