نئی دہلی، (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو آل انڈیا ریڈیو پر نشر اپنے ماہانہ من کی بات پروگرام میں آزادی کے امرت مہوتسو کے دوران لیے گئے پنچ پران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک اب غلامی کی ذہنیت سے آزادی کی سمت میں ٹھوس قدم بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب نوآبادیاتی علامتوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنی ثقافت اور ورثے سے وابستہ عظیم شخصیات کو مناسب احترام دے رہا ہے۔مسٹر مودی نے کہا کہ 23 فروری کو راشٹرپتی بھون میں راجا جی اتسو کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس موقع پر راشٹرپتی بھون کے مرکزی صحن میں ملک کے پہلے ہندوستانی گورنر جنرل سی راج گوپال آچاری کے مجسمے کی نقاب کشائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ راجگوپال آچاری نے عوامی زندگی میں سادگی، ضبطِ نفس اور جذبہ خدمت کی مثال پیش کی۔انہوں نے کہا کہ راجا جی ان رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اقتدار کو عہدہ نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ ان کی آزادانہ سوچ اور اخلاقی طرزِ عمل آج بھی ہم وطنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹرپتی بھون میں پہلے برطانوی ماہرِ تعمیرات ایڈون لوٹینز کا مجسمہ نصب تھا، جسے ہٹا کر اب راجا جی کا مجسمہ نصب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے نوآبادیاتی علامتوں سے آگے بڑھ کر ہندوستانی تشخصیت کو عزت دینے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔مسٹر مودی نے کہا کہ راجگوپال آچاری کی زندگی اور خدمات پر مبنی ایک نمائش بھی منعقد کی جائے گی جو 24 فروری سے یکم مارچ تک جاری رہے گی۔ انہوں نے ہم وطنوں سے اپیل کی کہ وہ وقت نکال کر اس نمائش کو ضرور دیکھیں اور عظیم معمارانِ قوم سے ترغیب حاصل کریں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حال ہی میں منعقد عالمی اے آئی کانفرنس جیسے قومی فخر کے موقع کو بھی اس نے اپنی گندی سیاست کا میدان بنانے کی کوشش کی اور ملک کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کی۔میرٹھ میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دہلی میں منعقد عالمی اے آئی کانفرنس میں 80 سے زائد ممالک کے نمائندوں اور کئی سربراہان مملکت نے شرکت کی، جس سے ہندوستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا تھا، مگر کانگریس نے اس کی حرمت کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ کانفرنس مقام پر کانگریس سے وابستہ افراد نے نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے ہندوستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کامیابی پر فخر کرنے کے بجائے کانگریس قیادت نے اسے تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ان سے، بی جے پی سے یا این ڈی اے سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن قومی پروگراموں کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے وقار سے جڑے پروگراموں کو بدنام کرنا افسوسناک ہے۔وزیر اعظم نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ ایسے معاملات میں لفظ اپوزیشن کا استعمال کر پورے اپوزیشن کو ایک ترازو میں نہ تولا جائے بلکہ جس جماعت کا کردار ہو، اس کا واضح ذکر کیا جائے تاکہ جوابدہی طے ہو سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی طرز عمل سے اس کی اتحادی جماعتیں بھی برہم ہیں اور ملک کے عوام اس طرح کی سیاست کو قبول نہیں کرتے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے لیے ملک کی ترقی اولین ترجیح ہے جبکہ کچھ جماعتیں ہندوستان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی سمت میں ملک آگے بڑھ رہا ہے اور اس مرحلے پر منفی سیاست سے اوپر اٹھ کر قومی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ میں دنیا نے اے آئی کے میدان میں ہندوستان کی منفرد صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا اور اس دوران ہندوستان نے تین میڈ ان انڈیا اے آئی ماڈل بھی لانچ کئے۔آج اپنے ماہانہ پروگرام "من کی بات” میں مسٹر مودی نے کہا کہ "من کی بات” ملک اور اس کے شہریوں کی حصولیابیوں کو منظرعام پر لانے کا ایک طاقتور پلیٹ فارم ہے۔ ملک نے اسی طرح کی حصولیابی دہلی میں منعقدہ گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران کا مشاہدہ کیا۔ کئی ممالک کے رہنما، صنعتی دنیا کے لیڈرز، اختراع کار اور اسٹارٹ اپ کے میدان سے وابستہ افراد، اے آئی امپیکٹ سمٹ کے لیے بھارت منڈپم میں جمع ہوئے۔ مستقبل میں اے آئی کی طاقت کا استعمال دنیا کس طرح کرے گی، یہ سمٹ ایک اہم نکتہ ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں سمٹ میں عالمی رہنماؤں اور ٹیک سی ای اوز سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ اے آئی سمٹ نمائش میں میں نےعالمی رہنماؤں کو بہت سی مصنوعات دکھائیں۔ میں خاص طور پر دو باتوں کا ذکر کرنا چاہتاہوں۔ سمٹ میں ان دو مصنوعات نے دنیا بھر کے رہنماؤں کو بہت متاثر کیا۔ پہلا پروڈکٹ امول کے بوتھ پر تھا۔ اس میں بتا گیا یا کہ اے آئی کس طرح جانوروں کے علاج میں ہماری مدد کر رہا ہے اور کسان کیسے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے 24 گھنٹے اپنے ڈیری اور جانوروں کے ریکارڈ کا حساب رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوسری مصنوعات کا تعلق ہماری ثقافت سے تھا۔ عالمی رہنما یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کیسے، اے آئی کی مدد سے، ہم اپنے قدیم گرنتھوں کو، اپنے قدیم علم اور اپنے مخطوطات کو محفوظ کر رہے ہیں، آج کی نسل کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ نمائش کے دوران نمائش کے لیے سشروتا سنہیتا کو منتخب کیا گیا۔ پہلے مرحلے نے یہ ظاہر کیا کہ کس طرح، ٹیکنالوجی کی مدد سے، ہم مخطوطات کے امیج کوالٹی کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ انہیں پڑھنے کے قابل بنایا جا سکے۔












