نئی دہلی، (یو این آئی): کانگریس نے منریگا کی جگہ نیا قانون لانے کے مودی حکومت کے قدم کو روزگار کی اس اہم اسکیم پر بلڈوزر چلانے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی نے اس کے خلاف پورے ملک میں منریگا بچاؤ سنگرام شروع کر دیا ہے۔ کانگریس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ دیہی مزدوروں کے لیے نہایت مفید ثابت ہونے والے منریگا پروگرام کے تحفظ کے لیے پارٹی نے آج سے منریگا بچاؤ سنگرام کی زوردار شروعات کر دی ہے۔ اس موقع پر ملک بھر کے ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنسیں کی گئیں اور حکومت پر مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو کمزور کرکے دیہی عوام کے کام کے حق، روزی روٹی اور جوابدہی چھیننے کا سنگین الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا، کانگریس نے آج ملک بھر کے ہر ضلع یونٹ کے دفتر میں پریس کانفرنس کے ساتھ منریگا بچاؤ سنگرام کی شروعات کر دی ہے۔ کانگریس اس جدوجہد کو فیصلہ کن انجام تک پہنچانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے منریگا پر بلڈوزر چلا کر جو کام کا حق، روزی روٹی اور جوابدہی چھینی گئی ہے، جب تک وہ پوری طرح بحال نہیں ہو جاتی، کانگریس اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔کانگریس رہنما نے کہا کہ حال ہی میں منظور کیے گئے وی بی۔جی رام جی ایکٹ کی شکل میں آنے والے نئے قانون سے منریگا کی بنیادی روح ختم ہو گئی ہے۔ اب کام کی گارنٹی ایک قانونی حق نہیں رہی بلکہ مرکزی حکومت کی مرضی پر منحصر ہو گئی ہے۔ منریگا کو کمزور کرنے سے گرام پنچایتوں کی طاقت بہت حد تک گھٹ گئی ہے اور مزدوری کی گارنٹی اور بروقت ادائیگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے اسے دیہی ہندوستان پر براہِ راست حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف ان کی یہ جدوجہد آج سے شروع ہو کر 25 فروری تک جاری رہے گی۔ پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں اتوار کو ایک روزہ اپواس اور علامتی احتجاج ہوگا، جبکہ 12 سے 29 جنوری تک پنچایت سطح پر عوامی رابطہ، گرام پنچایتوں میں بحث اور راہل گاندھی و ملکارجن کھڑگے کے خطوط تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے بعد 30 جنوری کو شہید دیوس کے موقع پر وارڈ سطح پر پرامن دھرنا دیا جائے گا۔












