سہرسہ (سالک کوثر امام) ضلع کے تحت مبارک پور پنچایت کے پورینی میں واقع واحد اعلیٰ ثانوی اسکول کو زبردستی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش نے پورے علاقے کو آگ کی طرح بھڑکا دیا ہے۔ دیہی عوام نے اس فیصلے کو کھلی سازش، تعلیمی قتل اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔دیہی عوام کا صاف کہنا ہے کہ پورینی اعلیٰ ثانوی اسکول تمام سرکاری معیار پر پورا اترتا ہے، اس کے باوجود اسے ختم کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے تاکہ غریب، مزدور اور دیہی بچوں کو تعلیم سے دور دھکیل دیا جائے۔ اس کو لے کر مکھیا، سر پنچ اور 11 وارڈ ممبر میں سے 8 ممبر سمیت پورے پنچایت کے تقریباً 12 سو لوگوں نے اپنے دستخط کے ساتھ ڈی ایم کو ایک لیٹر دے کر اسکول کو سیاست کا شکار بننے سے روکنے اور اسکول کو قائم رکھنے کی مانگ کی ہے۔ مزید کہاکہ اسکول کی منظوری 2019-20 میں دی گئی،وزیر اعلی کے ہاتھوں افتتاح ہوا، عمارت مکمل ہے، گزشتہ 6 برسوں سے انٹر تک تعلیم جاری ہے، 335 بچے اور 13 اساتذہ موجود ہیں پھر بھی اسکول کو ختم کرنے کی ضد آخر کیوں؟عوام کا الزام ہے کہ اُردو مڈل اسکول پرینی کو منتقل کرنے کا فیصلہ کاغذی بہانے اور بند کمروں کی سیاست کا نتیجہ ہے، جس میں عوامی رائے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔معاملہ اتنا سنگین ہو چکا ہے کہ رکن پارلیمنٹ کا عمل دخل بھی شامل ہوگیا ہے۔دیہی والدین نے دو ٹوک اعلان کیا ہےاسکول ہٹا تو سڑکوں پر اتریں گے، خاموش نہیں بیٹھیں گےعوام نے ضلع انتظامیہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر مبارک پور اعلیٰ ثانوی اسکول کو اس کی اصل جگہ پر برقرار رکھنے کا تحریری یقین نہ دلایا گیا تو تحریک، دھرنا اور بڑے پیمانے پر احتجاج ناگزیر ہوگا۔دیہی عوام نے واضح کر دیا ہے کہ یہ لڑائی اسکول کی نہیں، بچوں کے مستقبل کی ہےاور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سماجی کارکن امروز عالم نے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ جہاں منتقل کرنے کی بات کی جارہی ہے وہاں نہ اتنی زمین ہے اور نہ ہی بہتر سہولیات۔ اور سیلاب کے زمانے اسکول سیلاب کے زد میں آ جاتا ہے۔ جس سے بچے اسکول نہیں جا پاتے ۔ اور جہاں فی الحال واقع ہے وہاں باؤنڈری وال، زمین سمیت ساری سہولیات موجود ہیں۔ اور اہل علاقہ مزید زمین عطیہ کرنا چاہتے ہیں مگر دو سال سے انتظامیہ کی سست رفتاری اور کہیں نا کہیں سیاست نے کی وجہ سے یہ کام بند فائل میں پڑا ہواہے۔












