سہرسہ (سالک کوثر امام) ملک کو آزادی حاصل ہوئے تقریباً 79 برس گزر چکے ہیں، مگر خوراک پیدا کرنے والا کسان آج بھی بدحالی کا شکار ہے۔ مہنگی کھاد، بیج، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل کے باعث کاشتکاری مسلسل خسارے کا سودا بنتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کسان خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی زرعی اور معاشی پالیسیوں سے مایوس ہو کر کسان کھیتی باڑی چھوڑ کر دوسرے پیشوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ انہی مسائل کے خلاف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی جانب سے ایک احتجاجی مارچ نکالا گیا، جس میں کسانوں اور مزدوروں کے حق میں کئی اہم مطالبات پیش کیے گئے۔احتجاج کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ کھاد کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ پر فوری روک لگائی جائے اور کسانوں کو مقررہ نرخوں پر کھاد فراہم کی جائے۔حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم امدادی ایم ایس پی قیمت پر دھان کی خریداری کو یقینی بنایا جائے۔تمام زرعی قرضے معاف کیے جائیں۔فصل بیمہ اسکیم کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔منریگا کا نام بدل کر وی بی جی رام رکھنے کی آڑ میں اس اسکیم کو ختم کرنے کی کوششیں روکی جائیں۔جبری زمین حصول پر پابندی لگائی جائے اور زمین کا معاوضہ موجودہ بازاری قیمت پر دیا جائے۔اراضی کی رجسٹریشن میں پھیلی بدعنوانی کو روکا جائے۔احتجاجی مارچ میں شریک سی پی آئی کے رہنما اوم پرکاش نارائن نے الزام لگایا کہ کسان رجسٹریشن کے نام پر پردھان منتری کسان سمان ندھی کے فوائد سے کسانوں کو محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ نئے قواعد کے تحت صرف انہی کسانوں کو فائدہ ملے گا جن کے نام زمین رجسٹرڈ ہے، جبکہ آبائی کسان آج بھی اس زمین کے قانونی مالک نہیں بنائے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں 80 فیصد سے زائد کسان اس اسکیم سے محروم ہو جائیں گے۔انہوں نے منریگا کا نام بدل کر وکاس بھارت روزگار اور اجیویکا گارنٹی مشن کرنے پر بھی سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اسکیم کی روح ہی ختم کر دی گئی ہو تو نام بدلنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ نئے قوانین کے تحت فنڈنگ کے تناسب میں تبدیلی سے بہار جیسی غریب ریاستوں میں یہ اسکیم تقریباً ختم ہو جائے گی، جس سے مزدوروں کی نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوگا۔سی پی آئی کے ضلع سکریٹری کامریڈ پرمانند ٹھاکر اور کسان سبھا کے ضلع سکریٹری کامریڈ وجے کمار یادو نے کہا کہ دھان کی خریداری مقررہ قیمت پر ہونی چاہیے گریڈ ایک کے لیے 2395 روپے اور گریڈ دو کے لیے 2369 روپے فی کوئنٹل۔ تاہم پی اے سی ایس پر کوٹہ مقرر کیے جانے کی وجہ سے کسان کم قیمت پر اوپن مارکیٹ میں دھان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اشیائے خوردونوش اور کھاد کی بلیک مارکیٹنگ ہو رہی ہے، اور یوریا و ڈی اے پی مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ نرخ پر فروخت کی جا رہی ہے۔احتجاجی مارچ اور پتلا جلاؤ پروگرام میں کسان سبھا کے ضلع صدر کھرانند ٹھاکر کے علاوہ امیش پوددار، اومیش چودھری، شنکر کمار، رام ولاس شاہ، پربھو لال داس، امر کمار پپو، راجیش کمار، ابھے رام شرما، چندرکانت مکھیا، بھوپیندر یادو، بھویش یادو، کملیشوری سادا، جئے کشور دیو، ارویتا دیو، کملیشوری دیو، دیوانی سمیت بڑی تعداد میں کسان اور کارکنان شریک ہوئے۔












