بنگلور،(یو این آئی): جوش ہیزل ووڈ نے جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مشاہدہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی شدت کو تربیت (ٹریننگ) کے دوران دوبارہ پیدا کرنا ناممکن ہے”۔ ان کا یہ تبصرہ مقابلے کی سنگینی اور تیاری و کارکردگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی عکاسی کرتا ہے۔رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے تیز گیند باز کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرنچائز کرکٹ میں کام کے بوجھ (ورک لوڈ) کی مینجمنٹ، ریکوری اور خاص طور پر انجری سے واپسی کرنے والے فاسٹ باؤلرز پر پڑنے والے جسمانی اثرات پر بحث جاری ہے۔ ہیزل ووڈ، جو ہیمسٹرنگ اور پنڈلی کی تکلیف کے باعث طویل عرصے تک کھیل سے باہر رہنے کے بعد واپسی کی کوشش کر رہے ہیں، نے زور دیا کہ تربیتی سیشن تال بحال کرنے میں تو مدد دیتے ہیں، لیکن وہ آئی پی ایل میچ کے دباؤ، رفتار اور جارحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہیزل ووڈ نے کہا، آپ واقعی ٹریننگ میں آئی پی ایل میچ کی شدت پیدا نہیں کر سکتے۔ شائقین، دباؤ اور جس طرح بلے باز پہلی ہی گیند سے سخت حملہ کرتے ہیں یہ بالکل مختلف ہے۔ اسی لیے آپ کو اپنی واپسی کے عمل میں بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔” آسٹریلوی فاسٹ باؤلر نے بتایا کہ ٹریننگ اور میچ کے حالات کے درمیان اسی فرق کی وجہ سے ان کے لیے ورک لوڈ مینجمنٹ مرکزی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 35 سال کی عمر میں ان کا نقطہ نظر اب صبر اور درستگی پر مبنی ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف زیادہ سے زیادہ اوورز کرنے کا ہدف رکھیں۔ ہیزل ووڈ کا کہنا تھا، "میں نے برسوں کے دوران سیکھا ہے کہ آپ کو اس عمل کا احترام کرنا ہوگا، خاص طور پر 30 سال کی عمر کے بعد۔ فٹنس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا آپ محض اعلان کر دیں—یہ وہ چیز ہے جسے آپ آہستہ آہستہ دوبارہ حاصل کرتے ہیں۔”ہیزل ووڈ نے آر سی بی کے کپتان رجت پاٹیدار کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک پرسکون اور مسلسل بہتری کی طرف گامزن کپتان قرار دیا جو دباؤ میں گیند بازی کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کی بلے بازی میں ٹیمیں 220 سے زائد رنز کا ہدف رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے گیند بازوں کے لیے غلطی کی گنجائش کم ہو گئی ہے لیکن نظم و ضبط برقرار رکھنے پر مواقع بھی زیادہ ملتے ہیں۔
