• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
پیر, جون 22, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

سپریم کورٹ میں دفعہ 6A کی آئینی حیثیت پر بحث کا آغاز: آسام شہریت معاملہ

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 6, 2023
0 0
A A
سپریم کورٹ میں دفعہ 6A کی آئینی حیثیت پر بحث کا آغاز: آسام  شہریت معاملہ
Share on FacebookShare on Twitter

نئی دہلی 5؍ دسمبر2023 سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے آسام شہریت معاملے کی حتمی سماعت شروع کی، چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سریا کانت، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشراء پر مشتمل آئینی بینچ نے تمام عرضداشتوں پر یکجا سماعت کئے جانے کا فیصلہ کیا۔ آج سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے بحث کا آغاز کیا اورعدالت کو اس پور ے مقدمہ کے بارے میں تفصیل سے جانکاری دی ۔آئینی بینچ سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 6A؍ کی آئینی حیثیت پر سماعت کررہی ہے۔ دفعہ 6A؍ کے تحت مختلف تاریخوں پر ہندوستان میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، دفعہ 6A؍ کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے مختلف تنظیموں نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر سپریم کورٹ آف انڈیا کی آئینی بینچ سماعت کررہی ہے۔دوران بحث ایڈوکیٹ شیام دیوان نے مختلف رپورٹوں کے حوالے سے بتایا کہ غیر قانونی تارکین کی وجہ سے آسامی لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے، اوریجنل آسامی باشندے کئی اضلاع میں اقلیت میں آگئے ہیں ۔ایڈوکیٹ شیام دیوان نے عدالت کو مزید بتایا کہ سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 6A؍ بنانے کے لئے مضبوط جواز نہیں دیا گیا بلکہ یہ کہنا کہ سیاسی تصفیہ تھا درست نہیں ہوگا۔شیام دیوان نے عدالت کو مزید بتایا کہ غیر قانونی تارکین کو قانو نی شہریت دینا ایک حساس مسئلہ ہے جس پر عدالت کو ہندوستانی مفاد کو مد نظر رکھنا ہوگا ، آسامیوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوگی۔عدالت کے سامنے شہریت کی بنیاد 71 19 ہو یا 1951ہونی چاہئے پر بحث چل رہی ہے ۔دسمبر 2014 میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے 13 ؍ سوالات تیار کئے تھے جس کی روشنی میں مقدمہ کی سماعت کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس آف انڈیا نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا سے پوچھا کہ سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 6A؍ کے تحت کتنے لوگوں کو سٹیزن شپ دی گئی ہے یا کتنے لوگوں نے سٹیزن شپ حاصل کی ؟ تشار مہتا نے چیف جسٹس کو بتایاکہ وہ اس تعلق سے عدالت کو اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد مطلع کریں گے۔دوران سماعت چیف جسٹس آف انڈیا نے اپنے زبانی تبصرہ میں مدعی کے وکیل شیام دیوان سے کہا کہ آج عدالت کے سامنے ایسا کوئی مواد نہیں ہے اگر کوئی ایسا مواد ہے تودکھاؤکہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ 1966-1971 کے درمیان آنے والے شہریوں کو مراعات دینے سے آسام ریاست کی تقافتی شناخت متاثر ہوئی ہو چیف جسٹس آف انڈیا نے مزید کہا کہ شہریت قانون کی دفعہ 6A؍ کا نفاذ ایک انسانی اقدام کے تحت کیا گیا جو ہماری تاریخ سے جڑا ہوا ایک اہم حصہ ہے۔آج سماعت نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے بقیہ سماعت کل کئے جانے کا حکم جاری کیا،چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈوکیٹ شیام دیوان کو حکم دیا کہ وہ کل ایک بجے تک اپنی بحث کا اختتام کریں ،کل دوپہر کے بعد سالیسٹر جنرل آف انڈیا اور سٹیزن شپ کی حمایت کرنے والے وکلاء بحث کا آغاز کرسکتے ہیں اگر ایک بجے تک شیام دیوان اور دیگر وکلاء بحث کا اختتام کردیتے ہیں ۔ واضح ر ہے کہ آسام میں شہریت کے تعین کے لئے 1951کے شہریت ایکٹ میں سیکشن 6Aشامل کرکے شہریت کی بنیاد25؍مارچ 1971کو حتمی تاریخ تسلیم کئے جانے کو باقاعدہ پارلیمنٹ میں منظوری دی گئی تھی ، یہ ترمیم 15؍اگست 1985کو آسام کی ریاستی سرکار اورمرکز کے درمیان ہوئے ایک اہم معاہدہ کی تکمیل میں کی گئی تھی۔
اس کے بعد آسام میں شہریت کا معاملہ تقریبا ختم ہوگیا تھا لیکن 2012میں بعض فرقہ پرست تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا کہ شہریت کی بنیاد25؍مارچ 1971کے بجائے 1951کی ووٹرلسٹ کو بنایا جائے ، اس کے ساتھ ساتھ اسی عرضی میں آسام معاہدہ کی قانونی حیثیت اورشہریت ایکٹ میں 6Aکی دفعہ کے اندراج کو بھی چیلنچ کیاگیا ، اس معاملہ کو سپریم کورٹ نے جسٹس رنجن گگوئی اورجسٹس نریمن پر مشتمل ایک دورکنی بینچ کے سپردکردیاتھا جس نے 13سوالات قائم کرکے مقدمہ کو ایک پانچ رکنی آئینی بینچ کے حوالہ کردیاتھاجو اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے ، اس اہم مقدمہ میں جمعیۃعلماء ہند روز اول سے ہی ایک اہم فریق ہے، آج جمعیۃعلماء ہند اورآمسو کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ وکیل مسٹرکپل سبل ،سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید ، سینئرایڈوکیٹ اندراجے سنگھ، ایڈوکیٹ مصطفی خدام حسین اورایڈوکیٹ آن ریکارڈفضیل ایوبی بحث کریںگے ۔واضح ہوکہ راجیوگاندھی کے دورحکومت میں جب شہریت ایکٹ میں ترمیم کرکے شہریت کے لئے 25؍مارچ 1971کو کٹ آف تاریخ رکھا گیا تھا تو اس ترمیم کو تمام اپوزیشن پارٹیوں نے تسلیم کیا تھا ان میں بی جے پی بھی شامل تھی ۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist