نئی دہلی، (یو این آئی) امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بحث کے مطالبے کے تعلق سے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی پیر کو دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی، جس کی وجہ سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر آج کے ایجنڈے میں ہونے کے باوجود بحث نہیں ہو سکی۔ایک بار التوا کے بعد دوپہر تین بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بحث کرانے کے مطالبے کے تعلق سے پھر سے ہنگامہ کرنے لگے۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کے ارکان اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شورو غل کرنے لگے۔ اپنے مطالبات کی حمایت میں کئی ارکان پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ کئی ارکان ایوان کے وسط میں آکر نعرے بازی کر رہے تھے۔کانگریس کے محمد جاوید نے ہنگامے کے دوران ہی کہا کہ 50 لاکھ سے زائد ہندوستانی خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں جو کہ ایک بہت سنگین معاملہ ہے اور اس پر فوری بحث کرائی جانی چاہیے۔ کچھ ارکان کہہ رہے تھے کہ پٹرول اور ڈیزیل کا بحران شروع ہو گیا ہے، لہٰذا اس معاملے پر بحث کرانا ضروری ہے۔ اس سے قبل اسی مطالبے پر ہنگامے کی وجہ سے دوپہر 12 بجے کارروائی تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔لوک سبھا اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد پر بحث آج کے ایجنڈے میں درج تھی لیکن اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے سے اس پر بحث نہیں کرائی جا سکی۔چیئرمین جگدمبیکا پال نے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر جا کر ایجنڈے کے مطابق ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کرنے کی بار بار اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوک سبھا اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد پر بحث کرانے کے لیے تیار ہیں۔ مسٹر جاوید کو اس سلسلے میں اپنی تجویز پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے ہنگامہ کرنے والے ارکان سے کہا کہ وہ اپنی ہی تجویز پر بحث کرانے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے مسٹر جاوید سے بار بار اپنی تجویز پیش کرنے کو کہا، لیکن وہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ہی بحث کرانے کے مطالبے پر زور دیتے رہے۔مسٹر پال نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر کے خلاف لائی گئی تجویز پر آج بحث شروع کر دینی چاہیے۔ مسٹر برلا نے اپنے خلاف لائی گئی تجویز کے بعد سے ایوان میں نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایوان کو اس پر جلد بحث کر لینی چاہیے۔ اسپیکر اس ایوان کے محافظ ہیں، انہوں نے اعلیٰ معیار کی پیروی کرتے ہوئے تجویز کے تصفیہ تک ایوان میں نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہنگامہ کررہے ارکان پر مسٹر پال کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے شور شرابہ مزید تیز کر دیا۔ اس پر چیئرمین نے کارروائی منگل کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔اس سے قبل ایوان کی کارروائی 12 بجے شروع ہوتے ہی پریذائیڈنگ آفیسر جگدمبیکا پال نے ایوان کو ہندستان کی ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں جیت کی اطلاع دی۔ ایوان نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ اس کے بعد کانگریس کے ارکان نے مغربی ایشیا میں تنازعہ پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرہ بازی شروع کردی۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان، پریزائیڈنگ آفیسر نے ضروری کاغذات ایوان کے میز پر رکھوائے۔ مسٹر پال نے کہا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو ایوان میں بیان دینا ہے، اس لیے تمام ارکان اپنی اپنی نشستوں پر چلے جائیں۔ شاید وہ جس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس کا جواب انہیں اس بیان سے مل جائے گا۔ اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان ہی مسٹر جے شنکر نے اپنا بیان پڑھا۔ اس کے بعد بھی ہنگامہ جاری رہنے پر مسٹر پال نے کہا کہ وزیر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر مفصل بیان دے دیا ہے جس میں تمام باتوں کا جواب موجود ہے۔اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن الجھن میں ہے اور نہیں جانتا کہ کیا کرنا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر کے خلاف نوٹس دیتے ہیں، پھر دوسرا نوٹس دیتے ہیں۔ ہم بحث کے لیے تیار ہیں تو دوسرا نوٹس دینے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں ایسا سلوک کبھی نہیں دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آدمی ملک کا مہاراجہ ہے کیا، کہ صرف ان کی بات سنی جائے گی۔ کانگریس کے لوگوں کو اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ اپوزیشن پارلیمنٹ کا وقار کم کر رہی ہے۔ وہ جو غیر ضروری تجاویز لائے ہیں ہم ان پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس دوران پریزائیڈنگ آفیسر نے ہنگامہ کرنے والے ارکان سے کہا کہ آپ کی تحریک کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے اور اس پر حکومت بحث کے لیے تیار ہے۔ اسپیکر اوم برلا نے آپ کے نوٹس کو قبول کر لیا ہے۔ پھر بھی آپ اس پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے بار بار ارکان کو پرسکون رہنے کی تاکید کی اور کہا کہ کیا آپ اپنی تحریک پر بولنا نہیں چاہتے ہیں۔ جب ہنگامہ جاری رہا تو ایوان کی کارروائی تین بجے تک ملتوی کر دی گئی۔












