نئی دہلی،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق چیئرمین پروفیسر محمد علی جوہر نے قومی سیمنار بعنوان ”پریم چند کا ادب نئے تناظر میں“ کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے اشتراک سے نہرو گیسٹ ہاؤس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کمیٹی روم میں یک روزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر محمد علی جوہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند کے ادبی کارناموں کی سیر کرتے ہوئے ہمیں مایوسی کے بجائے حد درجہ خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ ‘ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگاجیسا پریم چند کا معروف جملہ نہایت گہرا اور معنی خیز ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر محمد علی جوہر نے پریم چند کے نظریہ ادب کو انسانیت کے لیے لازم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند یکسانیت اور مساوات کے نقیب تھے، جنہوں نے پوری زندگی مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی۔ ان کے قلم نے ہمیشہ حقیقت نگاری سے کام لیا۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ پریم چند کے ادب کو گہرائی سے پڑھا جائے اور اس کی تفہیم کی جائے۔ پروفیسر محمد علی جوہر نے کہا کہ پریم چند کا ادب انسانی قدروں کا حامل ہے، جس میں ہندستانی تہذیب و ثقافت، یہاں کا رہن سہن، رسم و رواج سب کچھ موجود ہے۔ آج ہندستانی معاشرہ تہذیبی سطح پر اپنی جڑوں سے دور جاتا ہوا محسوس ہو رہاہے، ایسے میں پریم چند کا تخلیق کردہ ادب نئی نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت اور جڑوں سے وابستہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتاہے، ہم جس ہندستان کو کھوتے جا رہے ہیں اس کی بازیافت ہمیں پریم چند کے ادب سے ہوتی ہے جس کا مطالعہ نئی نسل کے لیے بہت ضروری ہے۔ تکنیکی سیشن میں پروفیسر محمد علی جوہر نے اپنا مقالہ پریم چند کا ایک مضمون قوت بیانیہ کا زوال بھی پیش کیا۔ سیمنار میں تین تکنیکی سیشن تھے جن میں ملک کی اہم جامعات سے مدعو مندوبین نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس سے قبل تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر شہزاد انجم (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے پریم چند سے متعلق پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پریم چند ہندوستانی ادب، تہذیب اور معاشرے کا ایک روشن چہرہ ہیں۔ آج پریم چند کو نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ موضوع اور اسلوب کی سطح پر پریم چند کے یہاں حب الوطنی کے جذبات نمایاں ہیں۔ انھوں نے میدانی سطح پر کام کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کی تحریک کا بھی ساتھ دیا اور معاشرتی برائیوں کو اجاگر کیا۔ پریم چند کے ادبی متون کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ قومی کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پریم چند سے متعلق قومی کونسل کے طباعتی کام پر روشنی ڈالی جبکہ پروفیسر انور پاشا نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ سمینار میں مختلف یونیورسٹیوں کے مہمان مقالہ نگاروں کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔












