کلکتہ (یواین آئی) گورنر کے ذریعہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ممتا بنرجی کے طرف پیروی کرنے والے وکلا میں دو سابق ایڈویکٹ جنرل بھی شامل ہیں ۔ جینت مترا اور سومیندر ناتھ مکھوپادھیائے ممتا بنرجی کی پیروی کرنے والے پینل میں شامل ہیں ۔دونوں سابق ریاستی اے جی ہیں۔ دونوں نے ممتا حکومت سے اختلافات کے بعد ایڈوکیٹ جنرل عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ان میں سے جینت نے تواستعفیٰ کے بعد حکومت کے خلاف اپنا غصہ براہ راست ظاہر کیا تھا۔ سومیندرناتھ کے استعفیٰ کے بعد ان کی ناراضگی کو لے کر قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی۔گورنر سی وی آنند بوس نے منگل کو کلکتہ ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ جسٹس کرشنا راؤ کی عدالت میں بدھ کو اس کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران، یہ دیکھا گیا کہ جو وکلاء ممتا بنرجی کی طرف سے مقدمہ لڑیں گے ، ان میں دو سابق اے جی جینت اور سومیندر ناتھ شامل ہیں۔ تاہم بدھ کی سماعت میں انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا۔ مرکز کے ڈپٹی سالیسٹر جنرل دھیرج ترویدی گورنر کی جانب سے یہ مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ موجودہ ریاست کے اے جی کشور دتہ بھی کیس کی سماعت میں موجود تھے ۔16 دسمبر 2014 سے 7 فروری 2017 تک، جینت ریاست کے اے جی تھے ۔لیکن اس وقت مختلف قانونی مسائل پر حکومت سے ان کا اختلاف سامنے آیا۔ اس کے بعد 2017 میں جینت نے اس وقت کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اور حکومت کے ساتھ اختلاف رائے کو عام کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ تصادم بتدریج بڑھ رہا ہے ۔ کئی مسائل پر ان کے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا۔ بلکہ حکومت بتا رہی تھی کہ ان کی تجویز قابل قبول نہیں۔ سینئر وکیل نے کہا کہ اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔دوسری طرف موجودہ اے جی کشور دتہ سے پہلے سومیندرناتھ اس عہدے پر فائز تھے ۔ انہوں نے 14 ستمبر 2021 کو اسٹیٹ اے جی کے عہدے پر شمولیت اختیار کی۔ ممتا کے تیسری بار وزیر اعلی بننے کے فوراً بعد۔ ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ حکومت خود کو ان سے دوری بنارہی ہے ۔ اس کے بعد سومیندرناتھ نے نومبر 2023 میں اپنا استعفیٰ گورنر بوس کو بھیج دیا ۔۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر اب ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ حکمران جماعت کا نام اے جی کے عہدے پر رہتے ہوئے بھرتی کرپشن اور راشن کرپشن سمیت کئی کیسز میں ملوث تھا۔ان دونوں وکلاء نے اس بار گورنر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں ممتار کی طرف سے مقدمہ لڑرہے یں ۔غور طلب ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس راؤ نے حکم دیا تھا کہ وہ تمام میڈیا جس میں گورنر بوس کے بارے میں وزیر اعلیٰ ممتا کے تبصرے شائع ہوئے ہیں، انہیں بھی اس کیس میں شامل کیا جائے ۔ اس معاملے کی اگلی سماعت جمعرات کو ہوگی۔ممتا بنرجی نے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے ترنمول کانگریس کے دو ممبران اسمبلی کے حلف کو لے کر جاری تنازع پر کہا تھا کہ یہ وہاں جانا نہیں چاہتی ہیںکیوں کہ راج بھون میں خود کو محفوظ تصورنہیں کررہے ہیں۔ ممتا نے کہاکہ جیتنے کے بعد بھی میرے ممبر اسمبلی ایک مہینے سے بیٹھے ہیں! گورنر حلف اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ عوام نے انہیں منتخب کیا۔ انہیں کیا حق حاصل ہے کہ وہ انہیں حلف نہ اٹھانے دیں۔ اسے یہ حق (حلف اٹھانے کا) یا توا سپیکر کو دینا چاہئے یا ڈپٹی سپیکر کو دینا چاہئے ۔












