دیوبند ، ریلوے اسٹیشن دیوبند پر نان انٹر لاکنگ کا کام مکمل ہوگیا، اس کے ساتھ ہی سبھی متاثرہ ٹرینوں کی آمد و رفت بھی شروع کردی گئی ہے۔ اسٹیشن پر کام چلنے کی وجہ سے تقریباً آٹھ روز تک مسافروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہیں راحت مل گئی ہے۔ دیوبند ریلوے اسٹیشن پر روڑکی، دیوبند نئی ریلوے لائن کے لئے گزشتہ 25 فروری سے کام چل رہا تھا، جس کے سبب سہارنپور، دہلی سپرفاسٹ جالندھر، نئی دہلی انٹرسٹی، امبالہ دہلی اےکسپریس سمیت کئی ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا تھا، ساتھ ہی دہلی کالکا، اندور دہرادون، گولڈن ٹےمپل، ریشی کیش، کوچو ولی ایکسپریس سمیت بہت سی ٹرینوں کے روٹ میں تبدیلی کی گئی تھی، یہ ٹرینیں اسٹیشن پر نہ پہنچنے کے سبب مسافروں کو زبردست پریشانیوں کا سامانا کرنا پڑرہا تھا، اتنا ہی نہیں مسافروں کو لمبی روٹ کی ٹرینیں پکڑنے کے لئے میرٹھ اسٹیشن تک جانا پڑ رہا تھا، دیوبند اسٹیشن ماسٹر انل کمار نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ روز چل رہا نان انٹر لاکنگ کام گزشتہ کل شام مکمل ہوگیا ہے۔ کام کی وجہ سے جو ٹرینیں متاثر ہوئی تھیں، ان کی آمد و رفت پہلے کی طرح شروع کردی گئی ہے۔ اب مسافروںکو کسی طرح کی پرےشانی نہیں ہوگئی۔ دوسری جانب امبالہ کی جانب سے آرہی مال گاڑی سہارنپور اسٹےشن کے پاس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
کپلنگ کھلنے سے مال گاڑی کے 6 ڈبے الگ ہوگئے، جس کی وجہ سے انٹرسٹی ایکسپریس آدھے گھنٹے سہارنپور ریلوے اسٹیشن پر کھڑی رہی۔ محکمہ ریلوے کے افسران نے ڈبوں کو جوڑ کر مال گاڑی کو آگے روانہ کرایا، اس سے تقریباً ایک گھنٹے تک ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر رہی۔ یہ واقعہ آج صبح 7بج کر 55 منٹ پر کورٹ برج کے نزدیک پےش آیا۔ خالی مال گاڑی امبالہ کی طرف سے میرٹھ جا رہی تھی۔ مال گاڑی جیسے ہی کورٹ برج کے پاس پہنچی تو اس کے کپلنگ کھلنے کی وجہ سے 6 ڈبے الگ ہوگئے۔ گارڈ نے اس کی اطلاع فوراً ڈرائیور اور اسٹیشن ماسٹر کو دی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمہ کے ریلوے افسران میں افراتفری مچ گئی، تقریباً 40 منٹ سخت مشقت کے بعد الگ ہوئے ڈبوں کو دوبارہ سے مال گاڑی سے جوڑا گیا، جس کے بعد 8 بج کر 35منٹ پر اسے روانہ کیا گیا، جس کے سبب سہارنپور، میرٹھ، دہلی ٹریک پر ٹرینوں کی آمد و رفت تقریباً دو گھنٹے تک متاثر رہی۔ امبالہ ، دہلی انٹرسٹی ایکسپریس آدھے گھنٹے تک سہارنپور اسٹیشن پر کھڑی رہی۔ اسے 8 بج کر 55 منٹ پر روانہ کیا گیا، ٹرین کے لیٹ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹیشن ماسٹر انل تیاگی نے بتایا کہ مال گاڑی کے ڈبوں کی کپلنگ کھلنے کے سبب 6 ڈبے الگ ہوگئے تھے، گاڑی اسٹےشن سے کم رفتار سے گزر رہی تھی، اطلاع ملنے پر ڈبوں کو جڑوا کر مال گاڑی کو آگے لئے روانہ کیا گیا۔












