لکھنؤ(یواین آئی) ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے مقاصد کی نشاندہی،منصوبہ بندی،توازن اور فوری ترقی پر نشاندہی کرتے ہو وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو کہا کہ ہماری توجہ عام الناس کی زندگی میں سہولیت رسانی پر ہونی چاہئے اور تمام اتھارٹیز کو آمدنی کے نئے ممکنہ مواقع کی تلاش کرنی چاہئے ۔سہارنپور، مرزا پور، باندہ، بستی، امروہہ اور فیروز آباد کے ماسٹر پلان- 2031 کا جائزہ لیتے ہوئے ، وزیر اعلیٰ نے کہا’مقامی دستکاریوں اور روایتی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کے لیے کلسٹر تیار کیے جانے چاہئیں۔ مجسموں کو چوراہوں کے بجائے پارکوں میں رکھنے پر غور کیا جانا چاہیے ‘۔ انہوں نے کہا کہ موثر ٹریفک مینجمنٹ شہری علاقوں کے لیے اہم ہے ، اس کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ ٹیکسی آٹو اسٹینڈز اور اسٹریٹ وینڈر زون طے کیے جائیں۔ اس کے لیے ماسٹر پلان میں واضح طور پر زمین کی نشاندہی کی جائے ۔ ملٹی لیول پارکنگ کے لیے مناسب جگہ کا تعین کیا جائے ۔یوگی نے کہا کہ سہارنپور، جسے ‘گیٹ وے ٹو دیو بھومی’ کے نام سے جانا جاتا ہے اس بہتر رابطے اور شہری سہولیات کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں اور رہائشی آمدورفت میں اضافہ دیکھنے کوملا ہے ۔ "صنعتی، تجارتی اور رہائشی سرگرمیوں کی ترقی کے لیے سہارنپور کے ماسٹر پلان میں اچھی طرح سے انتظامات کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا’سہارنپور میں لکڑی کے نقش و نگار کے کلسٹر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب بہت ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ، لاجسٹکس اور گودام کے لیے جگہ مختص کرنا ضروری ہے ۔ حکام کو عام لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کوملحوظ رکھتے ہوئے ایک نئے رہائشی منصوبے کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کرنا چاہیے ۔ سی ایم نے کہا کہ مرزا پور میں ماں وندھیا واسینی دھام کی تزئین کاری کا کام تیزی سے جاری ہے ۔ انہوں نے کہابننے والے نئے میڈیکل کالج اور ریاستی یونیورسٹی کو ماسٹر پلان میں شامل کرنا ناگزیر ہے ۔ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرزا پور کے ترقیاتی علاقے کا رقبہ مزید بڑھایا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ بستی تیزی سے ترقی کر رہا ہے ۔ یہاں ایک میڈیکل کالج کے ساتھ ایک شوگر مل بھی قائم کی گئی ہے ۔ ان پیش رفتوں کو ماسٹر پلان 2031 میں شامل کرنا ناگزیر ہے ، جس سے متوازن اور منصوبہ بند ترقی کو یقینی بنایا جائے سکے ۔یوگی نے کہا کہ امروہہ کے لیے پہلی بار ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے ۔یہاں، ڈھولک، ڈرم، روئی کی ری سائیکلنگ، اور بینڈی بنانے جیسی سرگرمیاں روایت کا حصہ ہیں۔ ان روایات کو مزید سہارا دینے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ باندہ میں انڈسٹریل کوریڈور کی تجویز ہے ۔ ماسٹر پلان کی حد کوریڈور تک ہونی چاہیے ۔ بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کو اس سے جوڑیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس کوششیں کرنے کی ضرورت ہے کہ شہر کی عام ٹریفک بھاری ٹریفک سے متاثر نہ ہو۔












