رانچی، پریس ریلیز،ہماراسماج:انجمن فروغ اردو کے زیر اہتمام 31؍اگست 2024 بروز سنیچر بمقام مسجد جعفریہ ہال ،وکرانت چوک ،رانچی میں جھارکھنڈ کے مشہور و معروف شاعر جناب دلشاد نظمی کی دو کتابوں ’’کوئی ایک لمحہ رقم نہیں ‘‘(غزلیات ) اور ’’احتجاج لفظوں کا ‘‘ (نظمیں ) کی رسم رو نمائی عمل میں آئی۔ اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری محمد عارف کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد دونوں کتابوں کی رسم رونمائی عمل میں آئی ۔ سب سے پہلے معصومہ پر وین نے دلشاد صاحب کی کتاب ’’کوئی ایک لمحہ رقم نہیں ‘‘ پر اظہار خیال کیا ۔ اس کے بعد شگوفہ تہذیب نے دلشاد نظمی کی غزلوں کے حوالے سےکئی اہم نکات پیش کئے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اشعار کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی ۔ ڈاکٹر شیاما پر ساد مکھر جی یونیورسٹی کے طالب علم ابرار عالم نے دلشاد نظمی کی نظموں کے حوالے سے اپنی باتیں رکھیں ۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبد الباسط شعبۂ اردو گوسنر کالج رانچی نے اپنے اظہار خیال میں دلشاد نظمی صاحب کی غزلوں اور نظموں کے حوالے سےمفصل گفتگو فرمائی ۔ جناب مکمل حسین نے دلشاد صاحب کی شاعری کے حوالے سے کہا کہ دلشاد صاحب کو شاعری کی ہر صنف پر قدرت حاصل ہے ۔ وہ لفظوں سے کھیلنے کا ہنر خوب جانتے ہیں،اور ان کی شخصیت کے حوالے سےبیان کر تے ہوئے بتایا ایک شریف النفس شہسوار ادب ، فکرو فن کا جانباز مجاہد جو تھکے روکے بغیر اپنی منزل کی جستجو میں رہنےو الا قرطاس و قلم سے وابستگی اور تخلیقی سر گرمیوں کےحوالے سےا پنے خلوص و محبت کو شان بے نیازی کے ساتھ شہر شہر بستی بستی بانٹنے والے نظمی صاحب کی شخصیت ہی ہیں ۔ جو ابھی بھی اپنی منزل مقصود کی تلاش میں سر گرم نظر آتے ہیں ۔رانچی شہر کے مشہور ناظم جناب سہیل سعیدنے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب کی تروید و ترقی میں منافقت کا کوئی دخل نہیں ۔ اور دلشاد نظمی کے حوالے سے یہ بات کہی کہ جھارکھنڈ کی نمائندگی دوسری ریاستوں میں کرنے کا شرف ان کو حاصل ہے ۔ ڈاکٹر محفوظ عالم نے نظموں کے حوالے سے اپنی باتیں رکھتے ہوئے کہا کہ نظم گوئی میں دلشادنظمی نےعصری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے جدید اسلوب سے شعری پینٹنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ نصیر افسر نے میکون کے مشاعروں کا ذکر کر تے ہوئے کہا کہ میری پہلی ملاقات اس زمانے میں ایک بڑے مشاعرے کے ڈائس پر دلشاد نظمی سے ہوئی جہاں انہوں نے اپنی معیاری غزل ترنم کے ساتھ سنائی تھی ۔ اردو کے مخلص خادم و پچھم اڈیشہ کے صدر عبد الودوداجنبی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ علم و عمل کی اہمیت کے حوالے سے اردو کی پر خلوص خدمت کرنے کی تلقین کی ۔ اردو زبان آج تعصب کا شکار ہو کر رہ گئی ہے ۔ جب کہ یہ زبان پوری انسانیت کی فلاح و بہبودی کی ضامن ہے ۔ گملا سے تشریف لائے ہوئے آفتاب ا نجم اظہر (صحافی ) نے دلشاد نظمی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا اور ملک کے مختلف ریاستوں میں مشاعروں میں ساتھ رہنے کا بھی ذکر کیا ۔ اور دلشاد نظمی کی شخصیت کو بڑے احسن طریقے سے پیش کیا ۔ پروگرام کی صدارت جناب سمیع آزاد نے فرمائی ، اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو کےفروغ کے لیے ہم سب کو آگے آنا ہے اور دلشاد نظمی جیسے شعراء کی حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت ہے ۔ آخر میں دلشاد نظمی نے تمام معزز شرکاء کا فرداً فرد اً شکریہ ادا کیا اور انجمن فروغ اردو جھارکھنڈ کے ممبران کو مبارکباد پیش کیا ۔












