کیمور، پریس ریلیز ) بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتی ہوئی مشکلات کو دیکھ کر اکثر ہمارے چہروں پر مایوسی اور دلوں میں احساس کمتری رونما ہونے لگتی ہے، بہت سے لوگ تو اس طرح خوف وہراس میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ حق وصداقت کے معاملہ میں ان کے قدم کے اندر استقامت کے بجائے لرزیدگی اور دلوں میں حوصلہ مندی کے بجائے باطل کے آگے سر افگندگی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، مشکل حالات میں نا امید ومایوسی اور خوف وہراس کی یہ کیفیت ایمانی تقاضہ کے سراسر خلاف اور مومنانہ غیرت مندی کے یکسر منافی ہے، ضرورت ہے کہ ہم حالات سے خوفزدہ ہونے کے بجائے حکمت وبصیرت اور جرأت وہمت کے ساتھ مخالف حالات کا مقابلہ کریں اور حق وصداقت پر استقامت کی ایسی مثال پیش کریں، جس کا مطالبہ قرآنی تعلیمات اور نبوی ارشادات میں کیاگیاہے، ان خیالات کا اظہار مفکرملت امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدطلہ نے ۹؍مئی کو ضلع کیمور کے شہر بھبھوا اور ۱۰؍مئی کو ضلع رہتاس کے شہر ڈہری اون سون میں امارت شرعیہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تاریخی اجلاس عام کو خطاب کرتے ہوئے کیا،بھبھوا کا اجلاس ’’راجونتی واٹیکا رام پور کالونی‘‘ کے وسیع کیمپس میں جب کہ ڈہری اون سون کا اجلاس’’ انجینئر للن سنگھ اسپورٹ کلب ذکی بیگھہ‘‘ کے وسیع وعریض احاطہ میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر آپ نے مسلمانوں کی موجودہ تعلیمی ،معاشی اور صحت کی صورت حال کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایاکہ ان میدانوں میں ہماری غفلت نے ہمیںکافی پیچھے ڈھکیل دیاہے، ضرورت ہے کہ نئے شعور وآگہی اور جذبہ عمل کے ساتھ ان میدانوں میں مؤثر اقدامات کے لئے ہم آگے آئیں۔ امارت شرعیہ کے ناظم وصدر مفتی مولانامفتی محمدسعیدالرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں آپسی اتحاد کے استحکام، اسلام میں خواتین کی عظمت اور شرعی ہدایات کے مطابق خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کی لازمیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ امارت شرعیہ ملک کی وہ مثالی تنظیم ہے جو پوری ملت کو کلمہ کی بنیاد پر متحد دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے لئے شب وروز فکر مند ہے، ضرورت ہے کہ ہم حالات کے رخ کو سمجھیں اورآپسی اختلافات کی بے معنی بنیادوں کو ترک کرکے محض کلمہ واحدہ کی بنیادپر ایک امت اور ایک جماعت بن کر زندگی گذاریں، محترم ناظم صاحب نے اصلاحی نقطہ نظر سے کئی اہم خرابیوں خاص طورپر سموہ لون اور سود خوری جیسی لعنت سے معاشرہ کو پاک کرنے کی بھی دعوت دی، امارت شرعیہ کے صدر قاضی شریعت مولانامفتی محمد انظار عالم قاسمی نے تعلیم قرآن کی عظمت اور حفظ قرآن کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ قرآن پاک کی نسبت جس کو بھی حاصل ہوئی ہے وہ اپنے آپ میں ممتاز اور عظمت وبڑائی میں طاق ہوجاتاہے، انہوں نے مدرسہ فلاح دارین ڈہری اون سون کے حفاظ طلبہ ،ان کے گارجین اور مدرسہ کے ذمہ داروں کو مبارکباد دی جن کی محنتوں سے قوم کے ہونہاروں نے قرآن پاک کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانامفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب نے سماج میں موجودہ تلک،جہیز، شادیات میں فضول خرچی، نشہ خوری، جوابازی اور موبائل کے بے جا استعمال جیسی خرابیوں کے نقصانات پر نہایت ہی موثر گفتگو کی اور حاضرین سے ہاتھ اٹھاکر ان گناہوں سے بچنے اور اپنے معاشرہ کو بھی ان خرابیوں سے پاک کرنے کا عہد لیا۔ امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی صاحب نے اولاد کی دینی واخلاقی تربیت کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہاکہ اس وقت سماج کی ایک بڑی ضرورت اولاد کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی واخلاقی تربیت پر توجہ دینا ہے، جس طرح ہمارے لئے ضروری ہے کہ ایمان پر ثابت قدم رہیں ویسے ہی اولاد کے لئے ایمان کی بقاء کی فکر کرنا بڑا فریضہ ہے۔ امارت شرعیہ کے معاون ناظم مولانا قمر انیس قاسمی نے امارت شرعیہ کی خدمات اور اس کے بلند مقاصد نیز امارت شرعیہ کی طرف سے جاری خدمات کا تعارف کرایا ۔قاضی شریعت رہتاس جناب مولانا احسان الحق قاسمی صاحب نے حضرت امیر شریعت کی خدمت میں ایک وقیع سپاس نامہ پیش کیا۔اس موقع پر موصوف کے قلم سے لکھی گئی کتاب ’’موت سے لے کر قبر تک‘‘کے احکام ومسائل کا حضرت امیر شریعت مدظلہ اور اکابر علماء کے ہاتھوں اجرا بھی عمل میں آیا، نیز مدرسہ فلاح دارین ڈہری اون سون جس کے ناظم قاضی احسان الحق صاحب ہیں ان کے بائیس سے زیادہ حفاظ طلبہ کے سروں پر دستار بھی باندھی گئی، اجلاس میں پورے ضلع کیمورورہتاس سے بڑی تعداد میں علماء وائمہ، نقباء، دانشوران، سماجی کارکنان اور عام مسلمانوں نے شرکت کی، اجلاس میں مجلس استقبالیہ کی طرف سے مہمانان کرام کی شال پوشی اور گلدستہ کے ذریعہ استقبال بھی کیاگیا۔دونوں اجلاس کو کامیاب بنانے میں استقبالیہ کمیٹی ’’برائے اجلاس ‘‘ ضلع کیمور وضلع رہتاس کے نقباء، علماء و ائمہ،نوجوانان، ہمدردان امارت شرعیہ کے علاوہ مبلغین امارت شرعیہ اور جامعہ فلاح دارین کے اساتذہ نے کلیدی رول نبھایا اوردونوںاجلاس کو تاریخی انداز میں کامیاب بنایا۔جناب مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم صاحب نے دونوں اجلاس کی کامیاب نظامت کی، دونوںاجلاس میں حافظ احتشام رحمانی،مولانا شاہ نواز عالم مظاہری اور مولانا منہاج عالم ندوی کی بھی شرکت رہی۔












