نئی دہلی،آج دہلی سکریٹریٹ میں وزیر ماحولیات گوپال رائے کی صدارت میں سرمائی ایکشن پلان کے سلسلے میں مختلف محکموں کے افسران کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ محکمہ ماحولیات، ڈی پی سی سی، محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات، ڈی ایس آئی آئی ڈی سی، ایم سی ڈی، این ڈی ایم سی، ڈی ڈی اے، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، واٹر بورڈ، ترقی محکمہ تعلیم، دہلی پولیس، ڈی ٹی سی، آئی اینڈ ایف سی، پی ڈبلیو ڈی وغیرہ کے افسران نے حصہ لیا۔ میٹنگ کے دوران وزیر ماحولیات گوپال رائے نے مختلف محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ سرمائی ایکشن پلان کے 15 نکات پر تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ کے بعد دہلی کے ماحولیات کے وزیر گوپال رائے نے ایک پریس کانفرنس میں سرمائی ایکشن پلان سے متعلق کچھ اہم معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے اندر آلودگی ہمیشہ ایک بڑے چیلنج کے طور پر موجود رہی ہے۔ ہماری حکومت بننے کے بعد وزیر اعلی اروند کجریوال کی قیادت میں دہلی کی آلودگی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ اس سمت میں ہر سال کی طرح ونٹر ایکشن پلان کی شکل میں سردیوں کے موسم میں آلودگی کے مسئلے پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ سرمائی ایکشن پلان کے تحت جن 15 فوکس پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی تھی ان کی بنیاد پر بھی مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سیدہلی کے اندر آلودگی کی سطح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ حکومت اور مختلف محکموں کی نمایاں کارکردگی کے ساتھ کام کرنے کا اثر دیکھا گیا ہے۔وزیر ماحولیات گوپال رائے نے مزید کہا کہ اس ایکشن پلان نے دہلی کی آلودگی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دہلی کی ہوا کا معیار بہتر ہو رہا ہے۔ یہ دہلی کے لوگوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔یہ بات پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے میں کہی گئی ہے۔ اب اچھی، تسلی بخش اور درمیانی حددنوں کی تعداد 2016 میں 109 سے بڑھ کر 2022 میں 160 ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2016 اور 2022 کے درمیان انتہائی سنگین زمرے کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ جہاں 2016 میں 26 دن تھے اب 2022 میں یہ گھٹ کر صرف 6 دن رہ گئے ہیں اس طرح اس میں 77 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 سال سے زیادہ پرانی ڈیزل گاڑیوں اور 15 سال سے زیادہ پرانی پٹرول گاڑیوں پر پابندی، ای گاڑیوں کی تشہیر، آلودگی میں اضافے کے باعث تعمیراتی کاموں پر پابندی، گرین ایریا میں اضافہ، پٹاخوں پر پابندی، پرالی جلانے پر پابندی، 10 سال سے زائد پرانی گاڑیوں پر پابندی، ای-گاڑیوں کی تشہیر۔ گرین وار روم، پی این جی (صاف ایندھن) اور حکومت کے زیر انتظام صنعتی یونٹس۔تمام کوششوں کی وجہ سے معیار بہتر ہوا ہے۔












