شملہ؍نئی دہلی، (یواین آئی)مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جاری کارروائی نے سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس پر ہماچل پردیش کے سیاسی حلقوں میں ردعمل دیکھا گیا، جہاں منگل کے روز ریونیو منسٹر جگت سنگھ نیگی نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی کھل کر حمایت کی۔سینئر کانگریس لیڈر نے محترمہ بنرجی کی مرکزی ایجنسیوں کا سامنا کرنے کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں شیرنی اور رائل بنگال ٹائیگر قرار دیا۔مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر نیگی نے کہا کہ انتخابات سے قبل غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کو نشانہ بنانے کا ایک واضح اورمنصوبہ بند رجحان نظر آرہا ہے۔ انہوں نے چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں انتخابات سے عین قبل سیاسی عدم استحکام پیداکرنے اور مقبول عام لیڈروں کو بدنام کرنے کے مقصد سے انجام دی جارہی ہیں۔مسٹر نیگی نے کہا، جس طرح سے مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کو گلا گھونٹاجارہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ ایجنسیاں انتخابات سے عین قبل اچانک سرگرم ہو جاتی ہیں اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے جھوٹا بیانیہ گھڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایجنسیاں آزادانہ طور پر کام نہیں کرتیں بلکہ مرکزی حکومت کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرتی ہیں۔ہماچل کے ریونیو وزیر نے کہا کہ بی جے پی ترنمول کانگریس کی قیادت کو نشانہ بنا کر مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بنرجی کا ردعمل ہمت اور سیاسی عزم کی علامت ہے اور ملک بھر کی جمہوری قوتوں کی حمایت کا مستحق ہے۔مسٹر نیگی ایک سرکردہ قبائلی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں اور وہ بی جے پی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ جئے رام ٹھاکر کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ماضی میں ان کے کئی بیانات نے سیاسی بحث کو جنم دیا ہے اور عوام کی توجہ مبذول کی ہے۔مسٹر نیگی کے بیانات مغربی بنگال کے انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف ریاستوں کے اپوزیشن لیڈروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اتحاد کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے ای ڈی کی کارروائی کو ایک وسیع تر قومی سیاسی جہت مل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے منگل کے روز کہا کہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرست کے خصوصی گہری جانچ (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ تشدد سے متعلق مقدمات کی سماعت متعلقہ فریقین سے جواب ملنے کے بعد 19 جنوری کو ایک ساتھ کی جائے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وِپُل ایم پنچولی کی بنچ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایک وکیل نے عدالت کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا اور ایک جوابی حلف نامے کا حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر ریاست میں کم از کم چھ تشدد کے واقعات تسلیم کیا گیا ہے۔ وکیل نے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت اسی دن دوپہر 2 بجے بہار سے متعلق ایک مشابہ کیس کے ساتھ کی جائے۔ چیف جسٹس نے تاہم یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ سینئر وکیل کپل سبل کی طرف سے پہلے ذکر شدہ متعلقہ پٹیشن پر پہلے ہی نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اور مرکز و دیگر فریقین کو جمعہ تک اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ "ہم نے کل ذکر شدہ ایک متعلقہ معاملے میں پہلے ہی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جواب داخل کرنے کے لیے جمعہ تک کا وقت دیا گیا ہے۔ اس پر پیر کو سماعت ہوگی۔” بنچ نے مزید واضح کیا کہ منگل کو ذکر شدہ پٹیشن کو مغربی بنگال سے متعلق دیگر زیر التواء مقدمات کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے اور اگلے ہفتے ان پر ایک ساتھ سماعت کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ "مغربی بنگال کے تمام مقدمات پر پیر کو سماعت ہوگی۔” 12 جنوری کو سینئر وکیل کپل سبل نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے انعقاد کے طریقے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ "انتہائی عجیب و غریب طریقے” اپنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جانچ کے دوران مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا جا رہا تھا اور دعویٰ کیا کہ اس عمل میں "غیر منطقی تضادات” ہیں۔ اس سے پہلے، گزشتہ سال دسمبر میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے الزامات "انتہائی بڑھا چڑھا کر” پیش کیے گئے ہیں اور "سیاسی مفادات” سے متاثر تھے۔












