• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, اپریل 21, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

تعلیمی ماحول اور بچوں کی شخصیت سازی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
اپریل 8, 2026
0 0
A A
تعلیمی ماحول اور بچوں کی شخصیت سازی
Share on FacebookShare on Twitter

چند روز قبل پیش آنے والا وہ افسوسناک واقعہ، جس میں دو اساتذہ (مولوی حضرات) کو ایک طالب علم پر شدید تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا، بلاشبہ ہمارے سماج کیلئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اس نوعیت کے واقعات وقتی طور پر جذبات کو بھڑکا دیتے ہیں، مگر اگر ان کا سنجیدگی سے تجزیہ نہ کیا جائے تو یہ محض ایک اور خبر بن کر رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو جذبات سے ہٹ کر، ایک وسیع سماجی اور تعلیمی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں کسی استاد،خواہ وہ اسکول کا ہو، مدرسے کا ہو یا کوچنگ سینٹر کا،نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بچوں پر جسمانی یا ذہنی تشدد کیا۔ بعض ریاستوں میں اسکول ٹیچرز کی جانب سے طلبہ کو بری طرح پیٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، کہیں مدرسے میں نظم و ضبط کے نام پر زیادتی ہوئی، اور کہیں کوچنگ اداروں میں ذہنی دباؤ نے بچوں کو شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار کیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے: طاقت کا غلط استعمال اور جوابدہی کا فقدان۔یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پورے طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ مسئلے کے حل میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ دینی مدارس کی ایک طویل اور مثبت روایت رہی ہے جہاں لاکھوں بچے نہ صرف دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی پاتے ہیں۔ بے شمار اساتذہ ایسے ہیں جو اپنی زندگیاں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں اور انتہائی محبت و شفقت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اس لیے چند افراد کے جرم کو پوری برادری پر تھوپ دینا ایک خطرناک عمومی رویہ ہے جس سے معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے۔تاہم، اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جہاں کہیں بھی نگرانی اور احتساب کا نظام کمزور ہوگا، وہاں ایسے واقعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماضی میں کئی کیسز میں یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ ادارہ یا تو غیر رجسٹرڈ تھا یا وہاں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں تھی۔ بعض جگہوں پر اساتذہ کی تربیت کا بھی فقدان پایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ غصے یا دباؤ میں آکر غیر مناسب رویہ اختیار کر بیٹھتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف اداروں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے مجموعی معاشرتی رویّوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر’مار کر سکھانے‘ٍٍکا ایک تصور پایا جاتا ہے، جسے بعض لوگ تربیت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ گھروں میں والدین، اسکولوں میں اساتذہ، اور دیگر تعلیمی مقامات پر نظم و ضبط کے نام پر سختی کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جدید تعلیمی تحقیق اور نفسیاتی مطالعات واضح طور پر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ تشدد نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ بچے کی شخصیت پر منفی اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔اسی پس منظر میں اگر ہم تعلیمی فلسفے پر غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں خوف، دباؤ اور سزا کا غلبہ ہو، وہاں تخلیقی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھتیں بلکہ دب جاتی ہیں۔ بچے سوال پوچھنے سے گھبراتے ہیں، اپنی رائے دینے سے کتراتے ہیں اور بالآخر ایک غیر متوازن شخصیت کے حامل بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس محبت، حوصلہ افزائی اور مثبت رہنمائی کا ماحول بچے کے اندر اعتماد، جستجو اور خود اعتمادی کو فروغ دیتا ہے۔یہاں ہمیں اپنے تعلیمی نظام کے چند بنیادی پہلوؤں پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہمارے اکثر اداروں میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے جو طریقے اپنائے جاتے ہیں، وہ فرسودہ اور غیر سائنسی ہیں۔ اساتذہ کو اکثر یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ وہ مشکل یا شرارتی بچوں کے ساتھ کس طرح مثبت انداز میں پیش آئیں۔ نتیجتاً وہ یا تو سختی اختیار کرتے ہیں یا پھر بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس خلا کو پرکرنے کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے، جس میں بچوں کی نفسیات، رویہ جاتی مسائل اور ان کے حل کے طریقے شامل ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ نصاب میں بھی ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جو بچوں میں برداشت، احترام اور انسان دوستی کے جذبات کو فروغ دیں۔ اگر بچہ خود ایک پرامن اور مثبت ماحول میں تعلیم حاصل کرے گا تو وہ آگے چل کرایک ذمہ دار شہری بنے گا۔ لیکن اگر اس کی تربیت خوف اور تشدد کے سائے میں ہوگی تو اس کے اثرات معاشرے پر بھی مرتب ہوں گے۔
والدین کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اکثر اوقات والدین خود اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ استاد بچے کو سختی سے قابو میں رکھے۔ یہ رویہ غیر شعوری طور پر تشدد کو جواز فراہم کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ان کی بات سنیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہر حال میں محفوظ ہیں۔ اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور وہ اپنے والدین کو بتانے سے ڈرتا ہے تو یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔معاشرتی سطح پر بھی ہمیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ سختی ہی نظم و ضبط کا واحد ذریعہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں مثبت تربیت (Positive Discipline) کے اصول اپنائے جا چکے ہیں، جہاں بچوں کو سزا کے بجائے سمجھانے، رہنمائی کرنے اور ان کی اصلاح کے لیے تعمیری طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی ان تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کو ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کرینہ تو انہیں دبائے اور نہ ہی اس انداز میں پیش کرے کہ پورا طبقہ بدنام ہو۔ سنسنی خیزی وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتی ہے، لیکن طویل المدت میں یہ معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ متوازن اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ ہی اس مسئلے کو صحیح تناظر میں پیش کر سکتی ہے۔
قانونی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود تو ہیں، مگر ان پر عمل درآمد اکثر کمزور ہوتا ہے۔ ہر تعلیمی ادارے کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی تیار کرے، اس پر عمل کرے اور اس کی باقاعدہ نگرانی ہو۔ شکایات کے ازالے کے لیے شفاف اور فوری نظام ہونا چاہیے تاکہ متاثرہ بچے یا ان کے والدین بلا خوف اپنی آواز اٹھا سکیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کو محض تنقید تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ سماجی تنظیمیں، تعلیمی ماہرین، مذہبی رہنما اور حکومت سب کو مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ ایسے تربیتی پروگرامز کا انعقاد ہونا چاہیے جن میں اساتذہ کو جدید تدریسی اور تربیتی طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کریں گے تو اس کے اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑیں گے۔ تشدد نہ صرف ایک اخلاقی اور قانونی جرم ہے بلکہ یہ تعلیمی مقاصد کے بھی منافی ہے۔ ہمیں ایک ایسے تعلیمی ماحول کی تشکیل کرنی ہوگی جہاں علم کے ساتھ ساتھ انسانیت، برداشت اور احترام کو بھی فروغ دیا جائے۔یہ مسئلہ کسی ایک طبقے، ایک ادارے یا ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی چیلنج ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے رویوں، اپنے نظام اور اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ ایک متوازن، باوقار اور پرامن انسان کی تشکیل ہے،اور یہ مقصد کسی بھی صورت تشدد کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا

    پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا

    اپریل 21, 2026
    ہریانہ میں ریزرویشن ترقی کے قوانین میں ترمیم

    ہریانہ میں ریزرویشن ترقی کے قوانین میں ترمیم

    اپریل 21, 2026
    مشرق وسطی میں اسرائیلی اور امریکی جنگوں کے اصل مقاصد کیا ہیں

    مشرق وسطی میں اسرائیلی اور امریکی جنگوں کے اصل مقاصد کیا ہیں

    اپریل 21, 2026
    حج 1447ھ: عازمینِ حج کے قافلوں کی روانگی، اور سعودی عرب کی بے مثال تیاریاں

    حج 1447ھ: عازمینِ حج کے قافلوں کی روانگی، اور سعودی عرب کی بے مثال تیاریاں

    اپریل 21, 2026
    پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا

    پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا

    اپریل 21, 2026
    ہریانہ میں ریزرویشن ترقی کے قوانین میں ترمیم

    ہریانہ میں ریزرویشن ترقی کے قوانین میں ترمیم

    اپریل 21, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist