ریاض:سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک ہنگامی بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ مملکت اس کے ذریعے 9 کروڑ ڈالر فراہم کرے گی۔ یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے "دو ریاستی حل” پر عالمی اتحاد کے مشترکہ اجلاس میں بتائی۔انھوں نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد اب 159 سے زائد ہو چکی ہے۔ یہ پیش رفت سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد سامنے آئی، جس کا مقصد فلسطین کے مسئلے کا پر امن حل اور "دو ریاستی حل” پر عمل درآمد ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق عرب اور اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔فیصل بن فرحان نے زور دیا کہ غزہ کی جنگ کا خاتمہ دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا "ہم امریکا کے ساتھ مل کر جنگ روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔”وزیر خارجہ نے اردن، مصر، ناروے اور یورپی نمائندہ برائے امن کے ساتھ مشترکہ کانفرنس میں کہا کہ یہ اتحاد خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت ہو گا، جو فلسطینی عوام کے ساتھ انصاف پر مبنی ایک واضح روڈ میپ مرتب کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب شراکت داروں کے ساتھ مل کر جامع اور منصفانہ امن کے لیے کوشاں رہے گا۔
ان کے مطابق "دو ریاستی حل” ایک تاریخی موقع ہے جس کے تحت مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔برطانوی نشریاتی ادارے "اسکائی نیوز” سے گفتگو میں فیصل بن فرحان نے کہا کہ صدر ٹرمپ غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انھوں نے کہا میں پُرامید ہوں کہ جنگ کے خاتمے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ جنگ بہت طول پکڑ گئی ہے اور اب اس کا خاتمہ ضروری ہے۔”انھوں نے اسرائیلی کارروائیوں کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقائق کسی طور جھٹلائے نہیں جا سکتے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے دوران کئی یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جن میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال، فرانس، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، اندورا اور موناکو شامل ہیں۔گزشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز پر صدر ٹرمپ کی سربراہی میں امریکا، آٹھ عرب ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی میزبانی امیر قطر شیخ تمیم نے کی۔ ان کے علاوہ اردن کے شاہ عبداللہ، ترک صدر رجب طیب اردوان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبيانتو، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، مصر کے وزیر اعظم مصطفی مدبولی، امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی شرکت کی۔شرکا نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے غزہ میں جاری انسانی المیے اور تباہ کن حالات کی نشان دہی کی۔ انھوں نے جبری ہجرت کو مسترد کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بے گھر فلسطینیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے۔سربراہی اجلاس نے زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ترسیل ہی منصفانہ اور دیرپا امن کی طرف پہلا قدم ہے۔اجلاس کے اگلے روز صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے۔ "مجھے اسرائیلی قیادت سے ملاقات کرنا ہو گی، لیکن میرا خیال ہے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ بہت زیادہ لوگ مر رہے ہیں، ہمیں یرغمالیوں کو رہا کرانا ہے۔”دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی فضائیہ نے غزہ میں 170 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں "مسلح عناصر، فوجی تنصیبات، اسلحہ کے ذخائر اور بنیادی ڈھانچے” شامل ہیں۔ یہ اعلان فوجی ترجمان آویخای ادرعی نے "ایکس” پر کیا۔












