لکھنؤ، (یواین آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو تقرری نامہ تقسیم پروگرام کے دوران کانپور کی گونگی بہری بچی خوشی کی متاثر کن کہانی سنا کر پورے ہال کو جذباتی کر دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر معذور فرد میں صلاحیت ہوتی ہے، ضرورت صرف صحیح موقع، ہمدردی اور تعاون کی ہوتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ کچھ وقت پہلے کانپور کی ایک بچی، جو نہ سن سکتی تھی اور نہ بول سکتی تھی، صرف ان سے ملنے اور اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی ایک تصویر پیش کرنے کے لیے اکیلے کانپور سے لکھنؤ پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی بچی علاج کے بعد سن بھی رہی ہے اور بولنے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔یوگی نے کہا، مجھے یاد ہے کانپور کی ایک بٹیا کی کہانی۔ ایک دن وہ بغیر کسی کو بتائے کانپور سے پیدل لکھنؤ آ گئی۔ ودھان بھون کے سامنے خاموشی سے بیٹھ گئی۔ وہ نہ بول سکتی تھی اور نہ سن سکتی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ سے میری ایک چھوٹی سے تصویر بنا کر سامنے رکھ دیا تھا۔”انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں اور معذور افراد کے بااختیار بنانے کے محکمے کے تربیت یافتہ اساتذہ نے اشاروں کے ذریعے اس سے بات چیت کی اور اس کے اہل خانہ کا پتہ لگا کر اسے بحفاظت کانپور واپس بھیج دیا۔ بعد میں جب انہیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو انہوں نے بچی کو دوبارہ بلا کر اس کے علاج کا انتظام کرنے کی ہدایت دی۔ درحقیقت کانپور کی رہنے والی خوشی نومبر 2025 میں بغیر بتائے گھر سے نکل پڑی تھی اور تقریباً 90 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے لکھنؤ پہنچ گئی تھی۔ ودھان بھون کے باہر روتے ہوئے ملنے پر پولیس اسے بحفاظت تھانے لے گئی۔












