متعد دمجرمانہ معاملوں میں پچھلے چھ سال سے جیل میں بند یوپی کے سابق ایم پی اور ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کا ہفتہ کی شب طبی معائنہ کیلئے جانے کے دوران قتل کردیا گیا۔ ابھی عتیق کے بیٹے اسد اور غلام کے مبینہ انکائو نٹر پر اٹھتے سوال تھمے بھی نہیں تھے اور اس کے راز سے پردہ اٹھنا باقی تھا کہ اسد کے باپ اور چچا کا بھی قتل ہوجاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عتیق کا قتل پولس کے گھیرے میں ہوتا ہے جب بدمعاش دونوںکو بے خوفی سے گولی ماردیتے ہیں۔ پولس تحویل میں عتیق اور اشرف کے قتل کے بعدیہ معاملہ عوام میں موضوع بحث بنا ہوا ہے بلکہ کئی سوال کھڑے کر رہا ہے جس سے یوپی حکومت اور پولس کے رول و اسکے کام کے طور طریقوں پر انگلی اٹھنے لگی ہے۔بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عدالتیں اب بند کر دی جائیں ،کیونکہ جب سڑ ک پر ہی فیصلہ کیا جانے لگا ہے تو عدالتوں کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ ۔
اس معاملے نے سماج کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کر دیا ہے۔ اکثریتی طبقہ دونوں ملزمان پر قاتلانہ حملے میں ہوئی موت کو درست و جائز ٹھہرانے میں لگا ہے تو وہیں دوسرا اسے مذہبی عصبیت کی بنیاد پر کیا گیا حملہ قرار دے رہا ہے۔ کچھ میڈیا گھرانے بھی اس کو جائز ٹھہرانے میں لگے ہیں !۔ان سب کے درمیان کئی سوال اور بھی ہیں جو منہ پھاڑے کھڑے ہیں اور ان کاجواب دینے سے دامن بچایا جارہا ہے ۔یہ بے حد حیرانی کی بات ہے کہ دو درجن پولس عملہ کے درمیان سے تین حملہ آور دو قیدیوں پر نہایت قریب سے نشانہ لے کر حملہ کرتے ہیں اور پولس ان کو روک نہیں پاتی ہے!قابل غور بات ہے کہ گھیرے میں یہ وہی پولس اہلکار تھے جو اب تک اسد اور غلام کو انکائونٹر میں مارنے کے بعد خوشی اور فخر سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور شاباشی بٹور نے میں لگے تھے۔ اتوار کی شب وہی پولس عملہ عتیق اور اشرف کے حملہ آوروں پر گولی چلانے ،فائر کرنے کے بجائے ڈر کر بھاگتا نظر آیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ قاتلوں کے لئے انہوںنے اس جگہ کو خالی کردیا ہو!۔بتایا جاتاہے کہ حملہ اس وقت ہوا جب پولس عتیق اور اشرف کو میڈیکل چیک اپ کرانے ہسپتال لے جارہی تھی وہ ابھی ہسپتال پہنچے ہی تھے کہ ان پر حملہ ہو جاتا ہے۔ آخر ایسی کیا ایمرجنسی تھی ،یہ چیک اپ تو جیل میں بھی ہو سکتا تھا؟ ۔کچھ ویڈیوز بتار ہے ہیں کہ کچھ ہی دن پہلے اشرف اور عتیق نے ماردئے جانے کا خدشہ جتایا تھا؟لیکن پولس نے انہیں تحفظ دینے کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا ،ایسا کیوں ؟کہا جارہا ہے کہ ایک حملہ آور نے عتیق کو نشانہ بناتے ہوئے پہلے ان کی پگڑی کو پستول سے گرایا پھر سر میں کئی گولیاں پیوست کردیں ،اس دوران وہ’ جے شری رام‘ کا نعرہ لگا رہا تھا!۔سوال یہ بھی ہے کہ جس طمنچہ سے فائرنگ ہوئی وہ کہاں سے آیا ،حملہ آوروں کے پاس ترکی کا 6-7لاکھ کی قیمت والا (مائوزر طمنچہ) تھا اور انہوںنے اس کی تربیت کہاں سے لی؟۔ غلط نہیں کہ اب یوپی کا قانون و انتظام سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔کہ یہ کیسی ریاست ہے جہاںپولس ہی سارے فیصلے کررہی ہے اور اسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ؟ یہ کیسالا اینڈ آرڈر ہے اور یوگی حکومت کے یہ کس قسم کے مزحکہ خیز دعوے ہیں! کہ پولس گھیرے میں کوئی شخص محفوظ نہیں ہے؟کیااس سے یوگی حکومت کے دعوئوں کی قلعی نہیں کھل گئی!۔ یہ سوال یوگی حکومت سے کون کریگا کہ آپکی پولس کا مجرموں میںکوئی خوف کیوں نہیں ہے ؟،ان سے یہکون پوچھے گاکہ آپکی ریاست میں مجرموں کو سزا دینے کا پیمانہ مختلف کیوں ہے؟، ان سے یہ سوال کون کرے گا کہ ان پولس اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن لیا جائیگا جن کی گاڑی میں مبینہ طور سے حملہ آور آئے تھے !،ان سے یہ کون پوچھنے کی ہمت کریگا کہ عتیق اور اشرف کے مرنے پر جشن کیوں منایا جارہا ہے ؟ یا دیگر مجرم سزا ہونے کے بعد بھی آزاد پیرول پر کیسے گھوم رہے ہیں؟،ان سے یہ کون پوچھے گا کہ ریاست میں سزا کا دوہرا معیار کیوں ہے؟
اس میں شک نہیں کہ ابھی یوپی پولس کو اسد کے انکاؤنٹر کے بعد اٹھنے والے سوالوں کا جواب دیتے دیتے ہی گلا خشک ہوا جاتا ہے تو وہ عتیق کے معاملے میں کیسے باقی سوالوںکا سامنا کر پائیگی۔در حقیقت یہ لا اینڈ آرڈر کا مذاق اڑانے اور قانون کو ٹھینگا دکھانے جیسا ہے ،جہاں لوگ اپنی جان ہتھیلی پر لئے بیٹھے ہیں ۔سوال ہے کہ یہ کس قسم کا نظام ہے کہ جہاں کوئی مجرموں سے محفوظ نہیں ہے اور حکومت پچھلے سات سالوں سے مجرمین کے خاتمے کادعویٰ کرتی رہی ہے؟۔ حیرانی ہے کہ جب کوئی پولس گھیرے میں گولی باری کر کے قتل کردیا جاتا ہے تو عام لوگوں کی حفاظت کا کیا!ایسے میں ہم اسے کیا کہیں گے !کیا ہم جمہوریت کا قتل ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے ہیں ؟
بہر کیف ،اگرچہ عتیق کے تینوں حملہ آور اب دفعہ302,307کے علاوہ کئی دفعات کے تحت پولس کی تحویل میں ہیںلیکن اس پر سیاست گرم ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں سخت تبصرہ کررہی ہیں اور ردعمل دے رہی ہیں۔ ناقدین اس پر مختلف انداز میں سوال اٹھا رہے ہیں ۔ کانگریس کے ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ ملک کا آئین ان لوگوںنے بنایا ہے جو آزادی کے لئے لڑے تھے ،ہمارا اسی آئین کو اہم مقام حاصل ہے ،اس سے کھلواڑ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔مجرم کو سزادینے کا اختیار عدالت کا ہے ۔ جینت سینگھ کا کہنا ہے کہ یوپی کے ڈان برادرس کا پریاگ راج میں قتل ،اشرف اور عتیق کو سر عام پولس کی موجودگی میں گولی ماردی گئی !۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ اس قتل کی واردات یوپی کے قانون انتظام اور اس کے کام کے طور طریقوں پر بے شمار سنگین سوال کھڑے کرتی ہے۔ سامنا کے مدیر سنجے راوت کا کہنا ہے کہ دن دہاڑپولس بندوبست کے درمیان اگر قتل ہوتا ہے تو یہ ایک سنگی موضوع ہے۔لا اینڈ آرڈر پر سوال کھڑے ہوتے ہیںچاہے مافیا ہی کیوں نہ ہوں۔حالات سے لگ رہا ہے کہ اتر پردیش میں انارکی کا راج ہے اور ناقدین کے مطابق یہاں تک کہنا ہے کہ نفرت کی سیاست نے اب گھنائونی شکل اختیار کرلی ہے ۔جہاں مذب کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اس کے جنونیوں کواب قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہا!۔ ایسا کہا ں ہوتا ہے کہ کچھ جرائم پیشہ دیدہ دلیری سے کسی کو پولس کی موجودگی میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے گولی چلادیتے ہیں ؟کیا ملک میں یہ نئی ’روایت‘ کا جنم نہیں ہورہا ہے ، غنڈہ راج کے طرفدارجے شری رام کا اپمان نہیں کررہے ہیں ؟کیا یہ حدود سے باہر نہیں جارہے ہیں ،یہ بحث کا ایک حساس موضوع ضرور ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جائیگی۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ پچھلے چھ سال سے جیل میں بند دو مجرموں کو ختم کرنے کیلئے تین نئے گینگسٹروںنے جنم لے لیا ہے؟۔یہ پورا معاملہ قانون کی دھجیاں بکھیرنے اور شرمسار کرنے والا ہے ۔اتر پردیش میں حالات کو دیکھتے ہوئے گورنر رول نافذ کردینے کی آواز اٹھ رہی ہے ،اس سے قطع نظر کہا جارہا ہے کہ اس میں بڑا رول عدالتوں کا بھی ہونا چاہئے، لہٰذاکیا ملک کی عدالتیں اس پر کوئی از خود نوٹس لیں گی؟۔












