نئی دہلی ۔ ایم این این۔قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے 80ویں راؤنڈ کے گھریلو اخراجات (صحت) سروے کے نتائج ملک بھر میں صحت کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، جو حکومت کے ہدف بند اقدامات ، عوامی صحت خدمات کے دائرہ کار میں توسیع، اور انشورنس کوریج میں اضافے سے ممکن ہوئی ہے۔یہ سروے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس میں مجموعی طور پر 1,39,732 گھرانوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں 76,296 دیہی اور 63,436 شہری گھرانے شامل تھے۔ اس طرح یہ سروے صحت کی سہولیات تک رسائی، ان کی استطاعت اور استعمال کے رجحانات سے متعلق مضبوط اور زمینی سطح کی معلومات فراہم کرتا ہے۔این ایس اوکے 80ویں راؤنڈ کے نتائج حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں مسلسل بڑھتی ہوئی عوامی سرمایہ کاری کی بنیاد پر ہیں۔ بہتر بجٹ مختص کرنے کے باعث صحت کے بنیادی، ثانوی اور اعلیٰ درجے کے نظام میں نمایاں توسیع ممکن ہوئی ہے، انسانی وسائل کو مضبوط بنایا گیا ہے، اور احتیاطی، فروغِ صحت اور علاج معالجے پر مبنی اہم اقدامات کو وسعت دی گئی ہے۔ صحت کے شعبے کو سرکاری اخراجات میں مسلسل ترجیح دینے سے ملک بھر میں صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی ہے، خدمات کی فراہمی میں بہتری آئی ہے اور گھرانوں پر صحت کے مالی بوجھ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ہسپتال میں داخلے کے ایک کیس پر جیب سے ہونے والا درمیانی طبی خرچ(او او پی ای) 2025 میں 11,285 روپے ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں نصف سے زیادہ ہسپتال داخلوں میں نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے۔ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ صرف چند زیادہ لاگت والے کیسز اوسط خرچ کو بڑھاتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ زیادہ اخراجات عام نہیں بلکہ مخصوص اور پیچیدہ/خصوصی علاج والے کیسز تک محدود ہیں۔ مزید یہ کہ سرکاری صحت سہولیات میں ہونے والے نصف سے زیادہ ہسپتال داخلوں میں او او پی ای صرف 1,100 روپے تک محدود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غیر ہسپتال داخلہ علاج کے لیے سرکاری صحت مراکز میں درمیانی او او پی ای صفر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بڑی تعداد میں شہری بنیادی صحت خدمات مکمل طور پر مفت حاصل کر رہے ہیں۔حکومت کے فری ڈرگز سروس انیشیٹو(ایف ڈی ایس آئی) اور فری ڈائیگنوسٹکس انیشیٹو (ایف ڈی آئی) جو 2015 میں شروع کیے گئے تھے، نے ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی مفت ادویات اور تشخیصی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنایا ہے۔ بنیادی صحت سہولیات تک رسائی میں اس بڑے تبدیلی کے ساتھ ملک بھر میں موجود 1.84 لاکھ آیوشمان آروگیا مندرز (اے اے ایم ایس) بھی شامل ہیں، جو احتیاطی ، فروغِ صحت اور علاجی خدمات کو کمیونٹی کے قریب لا کر جامع بنیادی صحت کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔ یہ مراکز ڈیجیٹل صحت اختراعات سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں تاکہ رسائی بہتر ہو سکے۔تشخیصی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت نمونوں کی ترسیل کے نظام نے مختلف سطحوں پر تشخیصی سہولیات کی دستیابی اور رسائی میں بہتری پیدا کی ہے۔ مزید برآں، افورڈیبل میڈیسنز اینڈ ریلی ایبل امپلانٹس فار ٹریٹمنٹ(امرت) اقدام کے تحت 29 ریاستوں/مرکزکے زیر انتظام علاقوں میں 220 سے زائد فارمیسیوں کے ذریعے 6,500 سے زیادہ ادویات مارکیٹ ریٹ پر 50 فیصد تک رعایت پر فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے علاج کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔












