کولکاتا (یو این آئی) مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوا ہے۔ ریاست کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مکمل اکثریت کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ اس شاندار جیت کے ساتھ ہی بنگال کے اقتدار پر ترنمول کے 15 سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔بی جے پی نے 294 نشستوں والی ریاستی اسمبلی میں اب تک 130 نشستوں پر جیت حاصل کر لی ہے اور 77 نشستوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس طرح اس کی جیت کا اعداد و شمار 207 تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ ترنمول کانگریس نے صرف 48 نشستوں پر جیت حاصل کی اور 32 نشستوں پر برتری کے ساتھ اس کی جھولی میں زیادہ سے زیادہ 80 نشستیں ہی آ سکیں گی۔ کانگریس نے دو نشستیں جیتیں اور عام جنتا اونین پارٹی (اے جے یو پی) نے بھی دو ہی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اگر گزشتہ انتخابات کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول کو 43.3 فیصد ووٹوں کے ساتھ 22 نشستیں ملی تھیں، جبکہ بی جے پی 40.25 فیصد ووٹ حاصل کر کے 18 نشستوں تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد 2021 کے اسمبلی انتخابات میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی، جہاں ترنمول نے 47.94 فیصد ووٹوں کے ساتھ 213 نشستیں جیت کر اپنی گرفت مضبوط کی تھی، جبکہ بی جے پی 38.13 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 77 نشستوں پر سمٹ گئی تھی۔انتخابی سفر کے حالیہ اعداد و شمار کو دیکھیں تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول نے 46.16 فیصد ووٹ حاصل کر کے 29 نشستیں جیتیں، جبکہ بی جے پی 39.08 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 12 نشستوں پر رہی۔بی جے پی کے انتخابی سفر میں یہ تسلسل دیکھنے کو ملا ہے کہ اس نے 2016 میں محض تین نشستوں سے شروعات کی تھی، جس کے بعد 2021 میں 77 اور اب 2026 میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے دہانے پر ہے۔اس انتخابی میدان میں ایک طرف محنتی ممتا بنرجی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی، لیکن اقتدار مخالف لہر اور ترقی کے وعدوں کے سامنے ان کی گھیرا بندی ناکام رہی۔ آخر کار، کولکاتا کے ہیڈ کوارٹر سے لے کر دور دراز دیہاتوں تک بھگوا لہر دوڑ گئی ہے اور بنگال کی سرزمین پر پہلی بار کمل کھلا ہے۔












