اٹاوا(ہ س)۔کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کو کام کرنے کی اجازت دے اور کہا کہ خوراک کو ‘سیاسی ہتھیار’ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کا غذائی ذخیرہ ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد ان کا بیان سامنے آیا۔ڈبلیو ایف پی نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے غزہ میں گرم کھانا فراہم کرنے والے کچن میں اپنا آخری بچا ہوا غذائی سامان پہنچا دیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ سہولیات ختم ہو جائیں گی۔کارنی نے ایکس پر کہا، "اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام نے ابھی اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں اس کا غذائی ذخیرہ ختم ہو گیا ہے۔ خوراک کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ سات ہفتوں سے زیادہ عرصے سے کوئی انسانی یا تجارتی سامان غزہ میں داخل نہیں ہوا ہے کیونکہ تمام اہم سرحدی گذرگاہیں بند تھیں۔ یہ غزہ کی پٹی کو درپیش اب تک کی طویل ترین بندش ہے۔ کارنی نے کہا، "فلسطینی شہریوں کو حماس کے جرائم کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے۔ عالمی غذائی پروگرام کو اپنا زندگی بچانے والا کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔اسرائیل قبل ازیں اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ غزہ کو بھوک کے بحران کا سامنا ہے۔ فوج نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں امداد کا استحصال کر رہی ہے جس کی حماس نے تردید کی اور کہا ہے کہ مزاحمت کاروں کو امداد حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اسے تمام سامان بند رکھنا چاہیے۔غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے جمعے کے روز کہا، 23 لاکھ افراد پر مشتمل علاقے میں قحط اب ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ اٹھارہ مارچ کو جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 1,900 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ کارنی نے مزید کہا، "ہم مستقل جنگ بندی اور تمام قیدیوں کی فوری واپسی کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں خوراک اور ادویات کی اجازت دینے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا۔ کینیڈا کے باشندے پیر کو نئی حکومت کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے اور جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کارنی کے لبرلز کو کنزرویٹو پر ایک معمولی برتری حاصل ہے۔












