دیوبند ،سماج نیوز سروس: تاریخ صرف ماضی کا نوحہ نہیں ہوتی، بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔ جب کسی قوم کی عظیم وراثت زندہ ضمیروں کے ہاتھوں میں آتی ہے تو وہ صرف قصہ نہیں رہتی، ایک تحریک بن جاتی ہے۔ مظفر نگر کی سرزمین پر ایسی ہی ایک تحریک کا نام ہے فیضُ رحمان جو وراثت، انصاف اور اَٹوٹ قوم پرستی کے درمیان ایک مضبوط پُل بن کر ابھرے ہیں۔عظیم مجاہدِ آزادی شیخُ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور قاری طیبؒ کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے فیضُ رحمان نے اپنے اکابرین کی قربانیوں کو محض یادگار کے طور پر نہیں بلکہ عملی مشن کے طور پر اختیار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ آزادی کا اصل تقاضا نفرت سے نجات اور انسانیت سے وفاداری ہے۔علم کی بنیاد پر تعمیر فکر،دین بھی، دنیا بھی فیضُ رحمان کی شخصیت کا سب سے مضبوط پہلو ان کی تعلیمی تشکیل ہے، جو دینی روایت اور عصری شعور کا حسین امتزاج ہے۔انہوں نے مدرسہ مرادیہ سے حفظِ قرآن مکمل کیا، جہاں ضبطِ نفس، اخلاق اور روحانی تربیت نے ان کی شخصیت کو جِلا بخشی۔ بعد ازاں ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے مولویت (چہارم) کی تعلیم حاصل کی، جہاں انہیں اعتدال، وسعتِ نظر اور مکالمے کی روایت ملی۔اسی فکری وسعت کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے بی اے (B.A.) کی ڈگری حاصل کی۔ اس مرحلے پر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ مذہب اور جدیدیت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک مضبوط سماج کی مشترکہ بنیاد ہیں۔خدمت جو نعرہ نہیں، عمل ہے2011 سے آج تک فیضُ رحمان کی سماجی زندگی نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ آغازِ خدمت (2011)انہوں نے ہیومینٹی ویلفیئر سوسائٹی سے وابستہ ہو کر اپنی سماجی زندگی کا آغاز کیا، جہاں غریبوں، یتیموں اور محروم طبقات کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ خواتین کی تعلیم خاموش انقلاب (2012)سال 2012 میں انہوں نے وہ کام کیا جو اکثر صرف تقاریر میں سنائی دیتا ہے۔ گھروں میں جھاڑو برتن کرنے والی، سماج کے سب سے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی تقریباً 70 خواتین کو مفت تعلیم دلوا کر انہیں خود اعتمادی اور عزتِ نفس کا راستہ دکھایا۔ یہ اقدام خواتین کی بااختیاری کی عملی مثال بن گیا۔قوم پرستی کا نیا مفہوم2013 کے بعد2013 میں فیضُ رحمان مسلم راشٹریہ منچ سے وابستہ ہوئے۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمان اگر خود کو قومی دھارے سے الگ کریں گے تو فاصلے بڑھیں گے۔ ان کی قوم پرستی کسی کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے لیے ہے۔وہ کہتے ہیں:‘‘وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، مگر نفرت وطن کی کمزوری ہے۔انصاف کی لڑائی خاموش مگر مؤثر(2019)سی اے اے مخالف مظاہروں کے بعد جب بے قصور مسلم نوجوانوں پر مقدمات قائم کیے گئے تو فیضُر رحمان نے سڑک کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا۔ برسوں کی محنت کے بعد کئی نوجوانوں کے نام سے جھوٹے مقدمات ختم ہوئے۔ یہ جدوجہد شہ سرخیوں سے دور، مگر متاثرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی۔وبا میں انسانیت کورونا کا امتحان (2020–21)جب کورونا وبا نے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا تھا، اسی وقت فیضُر رحمان نے انسانیت کو قریب لانے کا کام کیا۔ روزانہ تقریباً 170 افراد کے لیے کمیونٹی کچن چلا کر بھوکے پیٹوں کو سہارا دیا۔ نہ مذہب پوچھا گیا، نہ ذات—صرف انسان دیکھا گیا۔سیاست بطور ذریعہ، مقصد نہیں2021 میں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست ان کے لیے اقتدار نہیں بلکہ خدمت کو وسیع کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ نفرت کی سیاست کے نہیں بلکہ مکالمے اور شمولیت کے حامی ہیں۔اصل مشن‘‘نفرت چھوڑو، بھارت جوڑو’’فیضُ رحمان کا ماننا ہے کہ شیہ سنی اتحاد وقت کی ضرورت ہے ،ہندومسلم ہم آہنگی ملک کی طاقت ہے۔












