اسٹاک ہوم(ہ س)۔ایک معروف تحقیقی مرکز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2024 میں عالمی فوجی اخراجات 27.2 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ گئے، جو 2023 کے مقابلے میں 9.4 فی صد زیادہ ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سالانہ بنیادوں پر یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سیپری) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ نے تمام خطوں میں فوجی اخراجات میں اضافہ کیا، خاص طور پر یورپ اور مشرق وسطیٰ میں ان کو تیزی سے بڑھتا ہوا دیکھا گیا۔ادارے کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 100 سے زیادہ ممالک نے اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کیا۔ جب حکومتیں سیکیورٹی کو بجٹ میں دیگر شعبوں پر ترجیح دیتی ہیں تو اس کی اقتصادی اور سماجی قیمت کئی سالوں تک معاشروں پر اثر انداز ہو سکتی ہے”۔یوکرین جنگ اور امریکہ کے نیٹو کے ساتھ معاملات پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باعث یورپ (بشمول روس) میں فوجی اخراجات میں 17 فی صد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں یورپی اخراجات سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی سطح سے بھی تجاوز کر گئے۔روس کا فوجی خرچ 2024 میں تقریباً 149 ارب ڈالر رہا، جو 2023 کے مقابلے میں 38 فی صد زیادہ اور 2015 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ یہ روس کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا 7.1 فی صد اور اس کے مجموعی سرکاری اخراجات کا 19 فی صد بنتا ہے۔ادھر یوکرین کے فوجی اخراجات میں 2.9 فی صد اضافہ ہوا، جس سے یہ 64.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے … یعنی روسی اخراجات کا 43 فی صد اور ملک کے جی ڈی پی کا 34 فی صد۔ سیپری ادارے کا کہنا ہے کہ 2024 میں یوکرین کا فوجی بوجھ دنیا میں سب سے زیادہ رہا۔ ادارے نے مزید بتایا کہ یوکرین اپنی تمام ٹیکس آمدنی فوجی مقاصد کے لیے مختص کر رہا ہے، اور اتنی محدود مالی گنجائش کے ساتھ، مستقبل میں مزید اضافہ کرنا مشکل ہو گا۔امریکہ کا فوجی خرچ 5.7 فی صد بڑھ کر 997 ارب ڈالر ہو گیا، جو 2024 میں نیٹو کے مجموعی اخراجات کا 66 فی صد اور دنیا بھر کے فوجی اخراجات کا 37 فی صد بنتا ہے۔اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دوران 2024 میں اپنے فوجی اخراجات میں 65 فی صد اضافہ کر کے انھیں 46.5 ارب ڈالر تک پہنچا دیا۔ یہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔دوسری جانب، ایران کا فوجی خرچ 10 فی صد کم ہو کر 2024 میں 7.9 ارب ڈالر رہا۔ سیپری کے مطابق، اگرچہ ایران علاقائی تنازعات میں ملوث ہے، لیکن پابندیوں کے اثرات نے اس کی فوجی اخراجات بڑھانے کی صلاحیت کو سختی سے محدود کر دیا ہے۔امریکہ کے بعد چین دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جو اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے، سائبر وارفیئر کی صلاحیتیں بڑھانے اور جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو وسعت دینے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین اب ایشیا اور اوشیانا کے کل فوجی اخراجات کا نصف حصہ رکھتا ہے۔ 2024 میں چین کے فوجی اخراجات میں 7 فی صد اضافہ ہوا، جو 314 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔












