محمدزاہد امینی
نوح،میوات،سماج نیوز سروس: صوبہ ہریانہ میں انتخابی شور تھم گیا ہے اور لوک سبھا کی سبھی 10 سیٹوں پر گذشتہ 25 مئی کو پر امن ماحول میں و وٹنگ ہوئی،مگر اس الیکشن میں گذشتہ انتخاب کے مقابلے 5.5 فیصد کم ووٹنگ سے بی جے پی و کانگریس دونوں ہی پارٹیاں فکر مند ہیں۔صوبہ میں مجموعی طور پر کل 65 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ ووٹنگ کے بعد 10 میں سے 7 سیٹوں پر بی جے پی و کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے جبکہ2019 میں بی جے پی نے تمام 10 سیٹیں جیتی تھیں۔ ماہرین اس مرتبہ کم ووٹنگ کی سب سے بڑی وجہ کسان تحریک کو مانتے ہیں۔ کسان تحریک ہو یا پھر شہروں کے مقابلے میں دیہات میں زیادہ ووٹنگ ان دونوں وجوہات کو ماہرین کانگریس کے حق میں مان رہے ہیں ۔ خطہ میوات سے متصل صوبہ کی 2 لوک سبھا سیٹ گروگرام و فریدآباد کی اگر بات کی جائے تو ان دونوں سیٹوں پر مسلم ووٹرز کا جیت و ہار میں اہم رول ہے۔ گروگرام سیٹ سے کانگریس نے راج ببر کواپنا امیدوار بنایا۔ ان کے سامنے بی جے پی امیدوار اور مرکزی وزیر راؤ اندرجیت ہیں۔ یہاں بھی 2019 کے مقابلے میں کم ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس بار یہاں 60.60% ووٹ ڈالے گئے جو کہ 6.73% کی کمی ہے جبکہ میوات کی تینوں اسمبلی سیٹوں پر جم کر ووٹینگ ہوئی ہے جس سے کانگریس خوش نظر آرہی ہے۔ وہیں صوبہ میں سب سے کم 59.70% ووٹینگ والی سیٹ فریدآباد رہی ،مگر یہاں پر مسلم اکثریت ہتھین اسمبلی و خطہ ۔84 و جاٹ اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ زیادہ ہوئی ہے۔ جن سے کانگریس کو زیادہ امیدیں تھیں۔ تاہم بی جے پی اس بات سے پریشان ہے۔ اس بار جاٹ لیڈروں نے بھی متحد ہو کر بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔مذکورہ وجوہات کی بنا پر کانگریس کے امیدوار راج ببر و مہندر پرتاپ سنگھ اپنی جیت کو لیکر پوری طرح سے مطمئن نظر آتے ہیں وہیں کانگریسی کارکنان بھی ووٹنگ کے بعد سے بیحد خوش نظر آرہے ہیں۔












