نئی دہلی،سماج نیوز سروس:دہلی کی مشہور ومعروف دینی وعصری درسگاہ مدرسہ باب العلوم جعفرآبا میںسالانہ جلسہ دستار بندی کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں مہمان خصوصی کے طورپر جمعیۃ علماءمتحدہ پنجاب کے جنرل سکریٹری اور میوات کی مشہور ومعروف شخصیت حضرت مولانا یحیٰ کریمی نے شرکت کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض مولانا جاوید صدیقی قاسمی نے انجام دیے۔ رواں سال مدرسہ باب العلوم سے 19طلبائے کرام نے حفاظ کرام کا شرف حاصل کیا اور دستارِفضیلت سے نوازے گئے۔ جن میں 8طلبا اطراف مدرسہ (جعفرآبا، ویلکم، جنتاکالونی،سیلم پوروغیرہ سے متعلقین ہیں) اور2 طلبا میوات سے،اور بقیہ 8طلباءیوپی، بہار،بنگال سمیت مختلف علاقوں کے رہنے والے ہیں۔جبکہ 9 طلبائے کرام نے قرأت سے فراغت حاصل کی۔جن میں سے 7طلبا مقامی ہیں جبکہ ایک طالب علم میواتی اور ایک بہار کے رہنے والے ہیں۔حفظ کے امتحانات میں اول پوزیشن عنایت اللہ مستقیم اوردوم پوزیشن میوات کے طالب علم نوید ولد محمد ساجد اور سوم پوزیشن عثمان ولد نوریز عبداللہ نے حاصل کی۔عربی درجات میں دلشاد اعظم علی جبکہ دوم عیان میواتی اور سوم اشرف فاروق نے حاصل کی۔ناظرہ سبھی طلباءکو انعامات سے بھی نوازا گیا۔جلسہ کا آغازا مدرسہ ہٰذا کے قرأت کے استاذ قاری محمد فاروق کی تلاوت سے ہواجبکہ نعتیہ کلام قاری امتیاز شاہی،فیض فاروقی،اکرم مرتضیٰ ،عفان ولد عطاءالرحمن نے پیش کی۔جبکہ محمد شہزاد نے انگریزی میں مولانا یحیٰ کریمی کیلئے استقبالیہ پیش کیا اور محمداشرف نے عربی اور محمد دلشاد نے انگریزی میں وحدانیت کے اوپر تقریر پیش کی،علاوہ ازیں ابوبکر،عثمان عبداللہ وغیرہ اور کئی طلبہ نے اردو میں تقاریر پیش کی۔ ابراہیم اور الطاف ٹیم نے ایکشن نظم پیش کی۔اس موقع پر مہمان خصوصی مولانا یحیٰ کریمی نے کہا کہ قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس مقدس کتاب کو حفظ کرنا ایک ایسا عظیم عمل ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل کرتا ہے۔ حافظِ قرآن وہ خوش نصیب شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔۔ اصل حافظ وہی ہے جو قرآن کو اپنے دل، زبان اور عمل تینوں میں بسائے۔وہیں مفتی ذکاوت حسین قاسمی شیخ الحدیٰ مدرسہ امینیہ کشمیری گیٹ نے کہا کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ قرآن کو حفظ کرنا ایک عظیم سعادت اور بہت بڑا اعزاز ہے۔ جو شخص پورا قرآن اپنے سینے میں محفوظ کر لیتا ہے، اسے حافظ قرآن کہا جاتا ہے، اور اسلام میں حافظ قرآن کا مقام نہایت بلند اور قابلِ احترام ہے۔مولانا ظفرالدین قاسمی صدر مدرس مدرسہ عبدالرب کشمیری گیٹ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ قرآن نہ صرف خود اللہ کے قریب ہوتا ہے بلکہ اپنے والدین کے لیے بھی باعثِ فخر اور نجات بنتا ہے۔مفتی رفیق حسین بخش کے صدر مفتی نے کہا کہ حدیث میں آتا ہے کہ حافظِ قرآن کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج سے زیادہ ہوگی۔ مفتی محمد عاقل قاسمی استاذ مدرسہ عبدالرب نے کہا کہ یہ اس عظیم قربانی اور محنت کا صلہ ہے جو والدین اپنے بچوں کو قرآن حفظ کروانے میں دیتے ہیں۔ماسٹر محمد قاسم مہتمم جامعہ عربیہ افضل العلوم میوات نے کہا کہ معاشرے میں بھی حافظ قرآن کو خاص عزت و احترام حاصل ہوتا ہے۔ وہ مساجد میں امامت کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔مولانا بشیر نے بھی خطاب کرتے ہوئے طلبہ کو نصیحت کی۔مولانا قاری محمد عارف نے کہا کہ حفظ قرآن ایک نعمت ہے لیکن ساتھ کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ مولانا اویس احمد رشیدی نے مہمانوں کا شکریہ اداکیا اور مزید کہا کہ آج کے دور میں ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مدارس کے طلباءدنیا کی ہرفیلڈ اور ہر میدان میں کامیابی کا جھنڈا لہرارہے ہیں۔ہمارے بزرگوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ مدارس اسلامیہ کی شکل میں ہے اور یہی مدارس ملت اسلامیہ کے تحفظ وبقا کی ضمانت ہیں ۔ قابل ذکرہے کہ اس موقع پرمفتی فضیل کنوینر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماءہندمولان کلیم الدین سندرنگری،مفتی صادق قاسمی ،مولانا شمس القمر امینی،مولانا حسین شاستری پارک،مفتی فخر الزماں معاون دینی تعلیمی بورڈ،قاری محمد اسعد، قاری محمد ارشاد، قاری کلام اللہ، حافظ محمد سہراب، حافظ محمد ثناءاللہ،قاری محمد آزاد،قاری شمعون، کے علاوہ بڑی تعدادمیںعوام وخاص موجودرہے علاوہ ازیں انقلاب کے نامہ نگار مولانا قاسم شمسی نے نعت پیش کی جسے بہت پسند کیا گیا۔












