ہاتھرس(یواین آئی) اترپردیش حکومت نے ہاتھرس میں منگل کو ہوئے حادثے کی عدالتی جانچ کا حکم دیا ہے ۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کو یہاں میڈیا نمائندوں سے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے سبکدوش جج کی قیادت میں عدالتی جانچ کا حکم دیا گیا ہے ۔ہاتھرس حادثے میں جو بھی لوگ ذمہ دار ہیں انہیں ان کے کئے کی سزا دلائی جائے گی۔ کوئی بھی خاطی نہیں بچ سکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس پورے انعقاد میں اندر کا انتظام آرگنائزرس سے جڑے سیواداروں کی تھی۔ جبکہ انتظامیہ کے ذریعہ باہر پولیس کا نظم کیا گیا تھا۔ لیکن حادثہ ہونے کے فوران بعد سیوادار وہاں سے فرار ہوگئے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے حادثے کے بعد لوگوں کو اسپتال پہنچانے کے لئے بھی کوئی انتظام نہیں کیا۔یوگی نے کہا کہ’ اس پورے واقعہ کے لئے ہم نے اے ڈی جی آگرہ کی قیادت میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے ۔ جس نے اپنی ابتدائی رپورٹ دی ہے ۔ انہیں اس واقعہ کے تہہ میں جانے کے لئے کہا گیا ہے ۔بہت سارے ایسے پہلو ہیں جن پر جانچ ہونا بہت ضروری ہے ۔بھولے بابا کے خلاف ایف آئی آر نہ ہونے کے سوال پر یوگی نے کہا سردست ایف آئی آر ان پر ہوتی ہے جنہوں نے درخواست دے کر پروگرام کی اجازت مانگی تھی۔ اس کے بعد اس کا دائرہ بڑھتا ہے ۔یقینی طور سے جو لوگ بھی اس واقعہ کے ذمہ دار ہونگے وہ سبھی اس کے دائرے میں آئیں گے ۔انہوں نے کہ اکہ سکندراراؤ تحصیل کے ایک گاؤں میں تکلیف دہ اور دردناک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس پورے حادثے کے تہہ تک جانے کے لئے حکومتی سطح پر ہم لوگوں نے منگل کو ہی قدم اٹھائے تھے ۔ اس حادثے میں 121 عقیدت مندوں کی موت ہوئی جو اترپردیش کے ساتھ ساتھ ہریانہ، راجستھان اور مدھیہ پردیش سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں ہاتھرس، بدایوں، کاس گنج، علی گڑھ، ایٹہ، للت پور، آگرہ، فیروزآباد، گوتم بد ھ نگر، متھرا، اوریا، بلندشہر، پیلی بھیت، سنبھل اور لکھیم پور کھیری سمیت 16اضلاع کے بھی کچھ عقیدت مند ہیں جو اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔مہلوکین میں سے کچھ عقیدت مند ایسے بھی ہیں جو دوسری ریاست کے ہیں۔ جن میں گوالیار(مدھیہ پردیش) سے ایک، ہریانہ سے چار اور رجاستھان سے ایک شامل ہیں۔ جو زخمی ہیں ان میں 31ایسے ہیں جن کا ہاتھرس، علی گڑھ، ایٹہ اور آگرہ کے اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور سبھی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے ۔












