بھارت جیسے دیش میں جہاں دنیا کے تقریبا تمام مذاہب کے لوگ نہایت آزادی سے رہتےہیں اور اپنے مذہبی ارکان اداکرتے ہیں ۔لیکن جب سے مودی جی اقتدار میں آئے ہیں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو آئے دن کسی نہ کسی بہانے ظلم کا نشانہ ضرور بنایا جاتا ہے ۔مساجد ،مدارس و خانقاہوں سے بی جے پی کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ اتر پردیش کے ہزاروں مدارس کو وہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعہ چلائے جانے کا الزام لگا رہی ہے ۔اور یہ صرف زبانی بیانیہ ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قدم کے تحت اس نے ایک تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جسے یہ دیکھنا تھا کہ اتر پردیش کے کچھ مخصوص اضلاع جو نیپال بارڈر سے متصل ہیں وہاں مدارس اسلامیہ کی کارکردگی کیا ہے ۔اور اب اس کمیٹی نے اتر پردیش کی سرکار کو جو رپورٹ سونپی ہے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس علاقہ میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے مدارس ہیں جو نہ تو مدرسہ بورڈ اور نہ کسی سرکاری ادارے سے منظور شدہ ہیں اور ان کی تعمیر سے لے کر چلانے تک کے سارے اخراجات غیر ممالک سے حوالہ کے ذریعہ آتے ہیں ۔یقینا اس رپورٹ کے بعد اتر پردیش سرکار کے پاس ان مدارس کی گہری چھان بین کا جواز ہوگا اور پھر ای ڈی ،سی بی آئی وغیرہ مقامی جوگی پولیس کے ساتھ مل کر جو کچھ کرینگے اس کے بارے میں تصور ہی کیا جاسکتا ہے ۔مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیر کر ان کا جینا دوبھر کرنے والوں میں ایک اہم نام آسام کے وزیر اعلی کا بھی ہے جو قدم قدم پر مودی جی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جوگی سے آگے نکلنا چاہتا ہے اور تختہ مشق مسلمان بنتے ہیں ۔کیونکہ ان دنوں ملک میں ایک ٹرینڈ رائج ہے کہ کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں پر ظلم کرو ،ان کو ذلیل کرو ،اور بی جے پی سے راشٹر بھکتی کا سند حاصل کر لو ۔اور اب تو اس سلسلے میں نئے نئے بہانے بھی تلاش کئے جانے لگے ہیں جو اس قدر مضحکہ خیز ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ہم کن لوگوں کی سربراہی میں رہ رہے ہیں ۔خبر ہے کہ آسام کے وزیر اعلی ہمنتا بسوا سرما نے آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) کے سربراہ اور لوک سبھا کے رکن بدرالدین اجمل کو خبردار کیا ہے کہ وہ ریاست میں "جادوئی علاج” یعنی جھاڑ پھونک کی کوشش نہ کریں، ورنہ وہ گرفتار ہو سکتے ہیں۔خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق ریاست کے لکھیم پور ضلع میں کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا آغاز کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا: "بدرالدین اجمل جادوئی علاج (جھاڑ پھونک)کرتے ہیں، اور انہوں نے اپنی عوامی میٹنگوں کے دوران بھی اپنی چالیں آزمائی ہیں۔ لیکن آسام اسمبلی نے ریاست میں جادوئی علاج (جھاڑ پھونک ،جادوٹونا)پر پابندی لگانے کا بل منظور کر لیا ہے۔ جو بھی اس پر عمل کرے گا اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔سرما نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ بدرالدین اجمل شاید ان کی باتوں پر عمل نہ کریں، لیکن اے آئی یو ڈی ایف لیڈر کو اسمبلی سے منظور کردہ آسام ہیلنگ (برائی کی روک تھام) پریکٹس بل 2024 کی پابندی کرنی ہوگی ۔واضح ہو کہ آسام حکومت نے اسمبلی کے حال ہی میں ختم ہونے والے بجٹ سیشن میں ایک بل منظور کیا ہے جس میں تھیراپی کے نام پر "جادوئی علاج” کو غیر قانونی قرار دیاگیا ہے اور جو بھی اس میں ملوث ہوگا اس کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں ۔لیکن اس بل کا اطلاق مولانا بدر الدین اجمل جیسے عالم دین اور کاروباری شخصیت پر کرنے کی دھمکی ایک وزیر اعلی کے ذریعہ صرف اس لئے دینا کہ وہ آسام میں ایک پارٹی کے لیڈر ہیں جو اپوزیشن کے کردار کو بحسن وخوبی ادا کرتی ہے ۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ بھارت کے مسلمانوں کو بی جے پی حکومت نے اتنا ہراساں کر دیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو تیار نہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں پر موت کا خوف طاری ہو چکا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ پوری دنیا میں واحد قوم مسلم ہے جس کے سامنے سب سے واضح دلیل موت وحیات کی موجود ہے ۔اور ان کا ایمان ہی اس پر ہے کہ موت و حیات کا مالک صرف اللہ ہے ۔آج ہی دہلی کے اندر لوک میں جمعہ کی نماز کے دوران جس طرح ایک پولیس والے نے نماز میں مشغول نمازی کو بوٹ سے ہٹ کیا ان پر تھپڑ اور گھونسے چلائے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس کی وردی بھی مسلم دشمنی کے اظہار میں مانع نہیں ہوتی ۔حالات ہر روز بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور اسے صرف یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ساری سازش مسلمانوں کو اکسانے کے لئے کی جارہی ہے تاکہ عام انتخاب میں بی جے پی کا ہندو ووٹ پولرائز ہو ۔یہ دلیل اس وقت تک درست تھی جب تک مسلمانوں کی کوئی سیاسی حیثیت تھی ۔اب تو ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کے مسائل سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے ۔عدالتیں مسلمانوں کے معاملے میں وہی موقف اختیار کرتی ہیں جو حکومت کا ہوتا ہے ۔اور ان سب کے باوجود پورے ملک میں سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے ساتھ ہی مودی کی گارنٹی کا نعرہ بھی گونج رہا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک بھارت کو قرار دیا جا رہا ہے ۔












