نوح،میوات،سماج نیوز سروس:حضرت میاں راج شاہ قادری سوندھوی کا 141واں عرس آج اختتام پذیرہوا۔طریقت حضرت ڈاکٹر تسخیر احمد قادری راجشاھی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ راجشاھیہ سوندھ نےسرپرستی فرمائ و صدارت الحاج قاری احمد راجشاھی سجادہ نشیں آستانہ نوریہ اوبھا کا جو دھ پور نے فرمائی۔بعد نماز عصر چادر و گل پوشی کی گئ بعد مغرب لنگر عام کھلایا گیا بعد نماز عشاء محفل عرس کا آغاز حافظ یعقوب قادری نے تلاوت کلام اللہ سے کیا۔قاری عبدالمتین قادری، ماسٹر توصیف ، قاری شفیق الرحمن ،سائیں حسن قادری تا ڑو، قاری ارشد چاہلکا، ماسٹر سہراب، حافظ رفاقت راجشاھی ، سید حسین راج شاھی سہارنپور ،انعام اللہ میرٹھی ،قاری دانش، جناب امداد راجشاھی ، نے نعت ومنقبت پیش کیں۔ مولانا نفیس اشفاقی ،قاری رحمت اللہ الور، مولانا رمضان اشفاقی،مولانا سلیم چاہلکا،مولانا صدام اشفاقی، مولانا سلیم رضوی بشمبرہ، مولانا عبدالغفور نقشبندی ،حافظ دلشادقادری ماتور، قاری فخرالدین ماتورنے بہترین اصلاحی گفتگو فرمائ ۔مولانا عارف اشفاقی نے دوران گفتگو فرمایا کہ قطب عالم میاں راج شاہ قادری سوندھوی تیرھویں صدی کی جلیل القدر شخصیت گزری ہیں آپ کی ولادت 1216ھ وصال 1306ھ میں ہوا آپ کے خلفاء میں اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی و بانئ دارالعلوم دیوبند حاجی عابد حسین قادری جیسی عبقری شخصیات شامل ہیں اس زمانے کے بہت سے نواب آپ کے مرید تھے بہادر شاہ ظفر بھی آپ کے عقیدت مند تھے ۔ آپ کے صاحبزادے مولانا عبداللہ شاہ قادری اپنے وقت کے مجدد ہو ہیں سرزمین میوات میں دینی وعصری تعلیم کی بنیاد راج شاھی علماء نے ڈالی ۔ قاری سعد راجشاھی میرٹھ نے نیت کے موضوع پر اچھاخطاب کیا ، عرس میں یوپی، راجسھان ، ھریانہ سے کافی عقیدت مندوں نے شرکت کی دوسرے دن صبح بعد نماز فجر قرآن خونی کی گئ بعدہ قل شریف کی محفل ہوئ اس میں سب کے لیے دعاء کی گئ اور ملک میں امن وشانتی کے لیے خاص دعا کی گئ سارے انتظامات ولی عہد ثاقب میاں کے زیر نگرانی ہو شرکاء میں چودھری ذاکر حسین راجشاھی ایڈمنسٹریٹر ھریانہ وقف بورڈ ، چودھری فضل حسین راجشاھی، قاری حکیم الدین اشفاقی ، مولانا ایوب شکارپور، مولانا ذوالفقارقادری رہاڑی ، مولانا نسیم قادری ہتھین ، مولانا تعلیم رضوی، مولانا اختر قادری ، مولانا نفیس قادری دوسرس جناب محمد احمد نوشاہی سنبھل، وغیرہ کے اسماء قابل ذکر ہیں۔












