• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مئی 1, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ہندو۔ مسلم بیانیہ ملک کو کہاں لے جارہا ہے!

قاسم سید

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 3, 2023
0 0
A A
ہندو۔ مسلم بیانیہ ملک کو کہاں لے جارہا ہے!
Share on FacebookShare on Twitter

آفتاب، شردھا نام کی لڑکی کے ساتھ دوسال سے لیو ان ریلیشن شپ میں تھا۔ایک دن اس نے شردھا کو قتل کر کے درجنوں ٹکڑے کیے اور مختلف مقامات پر پھینک دیے۔سوشل میڈیا سے لے کر مین اسٹریم میڈیا تک وحشیانہ قتل کے مختلف پہلوؤں پر اتنی گفتگو ہو رہی ہے کہ افواہیں،امکانات،قیاسات اور حقائق سب خلط ملط ہوگیے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پولیس کی کڑی نگرانی کے باوجود آفتاب کے70ٹکڑے کرنے کے ارادے سے ہندوتووادیوں نے اس پر تلواروں سے حملہ کرنے کی کوشش کی گرچہ وہ اس میں ناکام رہے۔اس دوران حالانکہ ملک کے مختلف علاقوں میں شردھا جیسے کئی دل دہلانے والے واقعات ہوئے لیکن وہ میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں ناکام رہے۔
مثال کے طور پر متھرامیں ہاءوے ایکسپریس پر سوٹ کیس میں ایک 22سالہ شادی شدہ لڑکی کی لاش ملی ہے، اس کو گولی ماری گئی تھی بدن پر زخموں کے نشان تھے معلوم ہواکہ اس کا نام آیوشی یادو تھا باپ نے غیربرادری میں شادی کرنے پر مارڈالا۔ماں نے لاش کو سوٹ کیس میں رکھنے میں مدد کی،ا عظم گڑھ کے پرنس یادو نے اپنی سابق 20سالہ محبوبہ کو 6ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک کنوئیں میں پھینک دیا،لڑکی کا نام آرادھنا تھا۔پرنس یادو نے دوسری شادی کرنے پر بھیانک انتقام لیا۔ قاتل مقتول دونوں ہندو تھے،مدھیہ پردیش کے شہڈول میں شوہر نے ناجائز تعلقات کے شبہ میں بیوی کو قتل کر دیا پھر اس کے ٹکڑے جنگل میں الگ الگ مقام پر دفنایا دیےقاتل کانام رام کشور پٹیل ہےاورمقتول کا سرسوتی پٹیل تھا۔بہار کے نالندہ میں ایک نوجوان وکاس کی سابق محبوبہ نے شوہر رنجن کے ساتھ مل کر کءٹکڑے کیے،اس کا سر پٹنہ کی ایک ندی میں بورے کے اندر ملا۔تینوں ہندو تھے،ایسا ہی معاملہ جبل پور کا ہے جہاں بے وفائی کے شک میں عاشق نے محبوبہ شلپا کا گلا ریت دیا اس کی ویڈیو بنایااور فرارہوگیا۔،دونوں ہندو تھے۔
دہلی میں شردھا جیسا ایک اور واقعہ ہوا جب بیٹے نے ماں کی معاونت سے اپنے باپ کے 20ٹکڑے کیے آفتاب کی طرح فریج میں رکھا اور مختلف مقامات پر پھینکتارہا قاتل مقتول ہندو تھے، وجہ ناجائز تعلقات کاشبہ۔کئی اور ایسے ہی واقعات میڈیا میں آئے مگر وہ بھی شہ سرخیاں نہ بن سکے ہاں جب ایک ٹی وی ایکٹرس نے خودکشی کی اور اس کا معشوق مسلمان نکلا تو تجزیوں انکشافات کی باڑھ آگئی۔ اس طرح کے واقعات لگاتار ہورہے ہیں لاش کے ٹکڑے کرنا انہیں مختلف مقامات پر پھینکنا ٹرینڈ بن گیا ہے پہلے بھی ہوے ہیں مگر اب’فیشن‘بن گیا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ایسے ہر واقعہ میں جوگزشتہ دنوں سامنے آئے۔ غصہ،انتقام،بہیمیت،درندگی،سفاکیت،اپنی انتہا پر نظر آتی ہے ،کہیں محبت کے نام پر بے وفائی، کہیں ناجائز تعلقات کا شک تو کہیں لیو ان ریلیشن سے اکتاہٹ،بیزاری اور چھٹکارہ حاصل کرنے کے جنون میں پارٹنرکورحمی سے ماردیا گیا،یہ پہلی بار ہورہا ہے ایسا بھی نہیں مگر تب نفرتوں کا کوئی مذہب نہیں تھا،جرائم کی کوئی مذہبی شناخت نہیں تھی مجرم صرف مجرم ہوتا تھا،ہندومسلم نہیں تھا۔ظاہر ہے مجرمانہ ذہنیت اور کرتوتوں کو ایک چشمہ سے ڈیکھاجاناچاہیے،ٹکڑے چھ ہوں یا سات،مارنے والا ہندو ہو یا مسلمان جرم کی کیفیت اور کمیت کو کم یا زیادہ نہیں کیا جاسکتا۔خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر اس کا شکار عورت ہے۔یہ رجحان جس میں ناپسند شخص کے ٹکڑے کرنے کے بعد ہی سکون مل رہا ہے بہت بھیانک،خطرناک اور سماج کے لیے تباہ کن ہے۔قانون کا خوف ،خاندان ،سماج کا ڈر، رشتوں کا تقدس واحترام ملیامیٹ ہور ڈبہا ہے،ہم دھیرے دھیرے انارکیت کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھے گا اور اذیت دینے میں شیطانی سکون ملے گا۔
سوال یہ پیداہوتاہے کہ ساری توجہ صرف آفتاب،شردھا معاملہ پر ہی کیوں ،آخر اسے لوجہادکالبادہ صرف ٹی آرپی بڑھانے ہندومسلم بیانیہ کو مزید دھار دینے کے لیے اوڑھایاجارہاہے؟پرنس یادو نے بھی اپنی محبوبہ کے متعدد ٹکڑے کیے ،دہلی میں بیٹے نے اپنے باپ کے بیس ٹکڑے کردیے ،یہ جرم سنگین نہیں؟،ہوا دینے کے لیے آفتاب یا شیزان ہونا ضروری ہے؟مان لیں اگر شردھا کی جگہ حسینہ ہوتی، آفتاب کو کسی پرمیلا نے ٹکڑوں میں بانٹا ہوتا تب بھی میڈیا اور ہندوتووادی اسی غصہ اور نفرت کا مظاہرہ کرتے؟ پرائم ٹائم میں بحث ہوتی الیکشن کا موضوع بنایا جاتا؟شاید نہیں۔ واقعہ کی سفاکیت تو دیگر کیسوں میں بھی ہے لیکن آفتاب ،شردھا کے الگ مذہب کا ہونے کی وجہ سے جرم زیادہ خطرناک ،زیادہ قابل مواخذہ ہے؟۔صرف شردھا کے قتل پر سیخ پا مگر آیوشی یادو،آرادھنا،شلپا کے لیے ہمدردی کا شورشرابہ نہیں؟ یہ بھی تو ہندو ہی ہیں ہندوتووادیوں کا خون ان کے لیے کیوں نہیں کھولتا؟ گویا یہ نفرت، غصہ شردھا کی وجہ سے نہیں آفتاب ہونے کے سبب سے ہے! یہ تو ہیپوکریسی اور منافقت ہے۔بحث کو ہندومسلم زاویہ دینا، اس کے بہانے ایک خاص مذہب کے خلاف اوزار کی طرح استعمال کرنا،لوجہادکا جامہ پہنانا اور سیاسی فائدے کے لیے ایشو بناکر اکثریتی طبقہ کو بھڑکانا کسی بھی مہذب سماج کے لیے شرمناک ہے۔اگر کردار ہندو ہوں تو پردہ ڈال دیں۔مذہب الگ ہے تو آسمان سرپر اٹھالواب میڈیا اسی سڑاند کے ساتھ اپنی ذلالت میں نئی ڈگری حاصل کرے گا؟
آفتاب کو قانون سزادے گا بھارت کی یہی خوبصورتی ہے ،مگرسادھوی پراچی کا کہناکہ آفتاب کے پانچ سو ٹکڑے کردو ہم راستہ نکال لیں گے اس بیان پر کوئی کارروائی نہ ہو،وکیلوں کا ہاتھا پائی کرنا،ہندو سینا کا آفتاب کو لے جانے والی وین پر تلواروں سے حملہ کرنا قانون کے خوف کا دل سے نکل جانے کی طرف اشارہ کرتاہے،یہ سڑکوں پر انصاف کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی ذہنیت رکھنے والوں کے بڑھتے حوصلوں کی عکاسی ہے،جو ڈرانے والی ہے ایسا کیوں لگتاہے کہ ہندو مسلم بیانیے کے زہریلے اثرات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دروازے تک پہنچ گیے ہیں ،تعلیم دینے والے ذہنوں کو مسموم کرنے لگے ہیں،تھانوں سے لے کر عدالتوں تک پر انگلیا ں اٹھنے لگی ہیں۔
کوئی بھی ذی ہوش آفتاب جیسے مجرم کی وکالت نہیں کرسکتا۔ کوئی وکاس اگر مسلم نام رکھ کر یہ حرکت کررہا ہے تو اس کے پس پشت کارفرما ذہنیت سے ملنے والے خوفناک سگنل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،سوال صرف یہ ہے کہ ٹارگٹ صرف آفتاب ہی کیوں؟ سنگ ملامت آفتاب کے لیے ہی کیوں؟کیا کرداروں کاہندو مسلم ہونا جرم کے گراف اور سنگینی کو طے کرے گا،قانون و انصاف کا اب یہی معیار ہے؟کیا اس نئے بیانیے کے ساتھ 5 ٹریلین اکنامی کا ہدف حاصل ہوگا؟کیا بھارت اسی تصویر کے ساتھ وشو گرو بنے گا؟کیا لیو ان ریلیشن کے بھیانک انجام پر غور کرنا نہیں چاہیے؟کیا بھارت جیسے مذہبی اقدار پر یقین رکھنے والا ملک اس ماحول کا متحمل ہوسکتا ہے؟سپریم کورٹ کے سخت رویے ،وارننگ کے باوجود میڈیا کی ڈھٹائی اور منھ زوری پر کوئی لگام نہیں ،ہندو مسلم بیانیے کے تکثیری سماج پر پڑنے والے بد اثرات پر کوئی تشویش نہیں تو جان لینا چاہیے کہ بھیڑیے کے منھ کو خون لگ گیا ہے۔ انجام کیا ہوگا بتانے کی ضرورت نہیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    اپریل 30, 2026
    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    اپریل 30, 2026
    نشہ مکت ابھیان، ’’ بڑی دیر کر دیتا ہوں میں‘‘

    نشہ مکت ابھیان، ’’ بڑی دیر کر دیتا ہوں میں‘‘

    اپریل 30, 2026
    میں نے اس طرح کی جمہوریت کبھی نہیں دیکھی

    میں نے اس طرح کی جمہوریت کبھی نہیں دیکھی

    اپریل 30, 2026
    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    ایس آئی آر اور مردم شماری میں لاپروائی نہ برتیں: حاجی افضال

    اپریل 30, 2026
    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے سائنسی سمپوزیم کا کیا افتتاح

    اپریل 30, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist